سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
دوستوں میں شمار کس کا ہے
دوستوں میں شمار کس کا ہے آج کل اعتبار کس کا کیا کہوں دشمنوں سے پوچھتے ہیں پیٹھ پیچھے یہ وار کس کا ساتھ تو تو کھڑا ہے پر یہ بتا یار تو طرف دار کس کا ہے دیکھ کر اس کو سوچتا ہوں یہ چاند سا چہرہ پیار کس کا ہے تم نے تو مرنا تھا بچھڑ کہ ہاں اب مرو انتطار کس کا ہے لوگ محشر میں تم سے پوچھیں گے تو گنہگار یار کس کا ہے بات دل کی بتائی کیوں دل کو دل یہاں راز دار کس کا ہے جانے اس بار پھول کس کو دیں جانے موسم بہار کس کا ہے مے کدے بھی نہیں گئے تم آج پھر یہ قلزم خمار کس کا ہے
پھر گلہ یہ ہے جوابات غلط
پھر گلہ یہ ہے جوابات غلط جب کے کرتے ہو سوالات غلط مفلسی ایک ترے ہونے سے اپنے سارے ہیں کمالات غلط وہ سہیلی کو دعا دے رہی تھی تیرے گھر آئے نہ بارات غلط ہجر نے آن لیا وصل کی شب یوں ہوئیں ہم پہ کرامات غلط شوق سے کھائیں ہمارا حق آپ آپ کو مل گئے درجات غلط ان کو بس عیب نظر آتے ہیں جن کے ہوتے ہیں خیالات غلط رات کو نیند نہ دن کو ہے قرار اپنے تو جیسے ہوں دن رات غلط جیت پر اپنی جو خوش آپ نہیں آپ نے دی ہے ہمیں مات غلط رحمتوں سے تو نہیں گرتے چھت میرے چھت پر ہوئی برسات غلط
جو مقبول نہ ہو سکے وہ دعا ہوں
جو مقبول نہ ہو سکے وہ دعا ہوں نہ کوئی بھی جو سن سکے وہ صدا ہوں پڑھو نفل گھر جا کے شکرانے کے تم بڑے ہی نصیبوں سے تم کو ملا ہوں سنو تم نہ ایسے مرے پاس آو کہ انسان کے روپ میں اک بلا ہوں اسی واسطے ہی میں تنہا ہوں رہتا وہ کہہ کر گیا تھا میں سب سے جدا ہوں مسیحا مرے اب کریں تو کریں کیا میں خود کے لئے خود بنا اک سزا ہوں رقیبوں سے ملتا ہے وہ چھپ چھپا کر مرے منہ پہ کہتا قسم سے ترا ہوں تمہیں کیا پتا کہتا کس دل سے ہوں میں رقیبوں سے جلتا نہیں نہ جلا ہوں یقیں اس کا پھر سے میں کرنے لگا تھا بڑے حادثے سے میں قلزم بچا ہوں