زبیر قلزم

زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام

11 May 2026

16سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

دوستوں میں شمار کس کا ہے

دوستوں میں شمار کس کا ہے آج کل اعتبار کس کا کیا کہوں دشمنوں سے پوچھتے ہیں پیٹھ پیچھے یہ وار کس کا ساتھ تو تو کھڑا ہے پر یہ بتا یار تو طرف دار کس کا ہے دیکھ کر اس کو سوچتا ہوں یہ چاند سا چہرہ پیار کس کا ہے تم نے تو مرنا تھا بچھڑ کہ ہاں اب مرو انتطار کس کا ہے لوگ محشر میں تم سے پوچھیں گے تو گنہگار یار کس کا ہے بات دل کی بتائی کیوں دل کو دل یہاں راز دار کس کا ہے جانے اس بار پھول کس کو دیں جانے موسم بہار کس کا ہے مے کدے بھی نہیں گئے تم آج پھر یہ قلزم خمار کس کا ہے

— زبیر قلزم

پھر گلہ یہ ہے جوابات غلط

پھر گلہ یہ ہے جوابات غلط جب کے کرتے ہو سوالات غلط مفلسی ایک ترے ہونے سے اپنے سارے ہیں کمالات غلط وہ سہیلی کو دعا دے رہی تھی تیرے گھر آئے نہ بارات غلط ہجر نے آن لیا وصل کی شب یوں ہوئیں ہم پہ کرامات غلط شوق سے کھائیں ہمارا حق آپ آپ کو مل گئے درجات غلط ان کو بس عیب نظر آتے ہیں جن کے ہوتے ہیں خیالات غلط رات کو نیند نہ دن کو ہے قرار اپنے تو جیسے ہوں دن رات غلط جیت پر اپنی جو خوش آپ نہیں آپ نے دی ہے ہمیں مات غلط رحمتوں سے تو نہیں گرتے چھت میرے چھت پر ہوئی برسات غلط

— زبیر قلزم

جو مقبول نہ ہو سکے وہ دعا ہوں

جو مقبول نہ ہو سکے وہ دعا ہوں نہ کوئی بھی جو سن سکے وہ صدا ہوں پڑھو نفل گھر جا کے شکرانے کے تم بڑے ہی نصیبوں سے تم کو ملا ہوں سنو تم نہ ایسے مرے پاس آو کہ انسان کے روپ میں اک بلا ہوں اسی واسطے ہی میں تنہا ہوں رہتا وہ کہہ کر گیا تھا میں سب سے جدا ہوں مسیحا مرے اب کریں تو کریں کیا میں خود کے لئے خود بنا اک سزا ہوں رقیبوں سے ملتا ہے وہ چھپ چھپا کر مرے منہ پہ کہتا قسم سے ترا ہوں تمہیں کیا پتا کہتا کس دل سے ہوں میں رقیبوں سے جلتا نہیں نہ جلا ہوں یقیں اس کا پھر سے میں کرنے لگا تھا بڑے حادثے سے میں قلزم بچا ہوں

— زبیر قلزم