زبیر قلزم

زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام

11 May 2026

16سپیکرز
280لسنرز

سپیکرز

ارشد گجر کا پیش کردہ کلام

مت کہیں پھر سے کہ تمہارے ہیں

مت کہیں پھر سے کہ تمہارے ہیں بڑی مشکل سے دن سنوارے ہیں آپ جائیں وضاحتیں مت دیں ہجر ایسے بہت گزارے ہیں زخم وہ دکھا نہیں سکتا اس نے لہجے کے تیر مارے ہیں حسن جیسی بلا نہیں ٹلتی بارہا صدقے بھی اتارے ہیں جو گریں اس کے گیلے بالوں سے یار بوندیں نہیں ستارے ہیں آئینہ بھی بتا نہیں سکتا آپ کتنے حسین پیارے ہیں باغ سے خار لائیں جو چن کر وہ ہیں کم ظرف بخت مارے ہیں ایسے ہنس کر یہ روز کا ملنا یہ بچھڑے کے سب اشارے ہیں خود کشی کر تو لوں مگر قلزم میرے غم میرے ہی سہارے ہیں

— زبیر قلزم