اعتبارساجد

ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)

01 December 2025

16سپیکرز
229لسنرز

سپیکرز

حماد ابراہیم کا پیش کردہ کلام

یہ کیا حالت بنا رکھی ہے یہ آثار کیسے ہیں

یہ کیا حالت بنا رکھی ہے یہ آثار کیسے ہیں بہت اچھا بھلا چھوڑا تھا اب بیمار کیسے وہ مجھ سے پوچھنے آئی ہے کچھ لکھا نہیں مجھ پر میں اس کو کیسے سمجھاؤں مرے اشعار کیسے ہیں مری سوچیں ہیں کیسی کون ان سوچوں کا مرکز ہے جو میرے ذہن میں پلتے ہیں وہ افکار کیسے ہیں مرے دل کا الاو آج تک دیکھا نہیں جس نے وہ کیا جانے کہ شعلے صورت اظہار کیسے ہیں یہ منطق کون سمجھے گا کہ یخ کمرے کی ٹھنڈک میں مرے الفاظ کے ملبوس شعلہ بار کیسے ہیں ذرا سی ایک فرمائش بھی پوری کر نہیں سکتے محبت کرنے والے لوگ بھی لاچار کیسے ہیں جدائی کس طرح برتاؤ ہم لوگوں سے کرتی ہے مزاجاً ہم سخنور بے دل و بے زار کیسے ہیں

— اعتبارساجد