سپیکرز
ریبل کا پیش کردہ کلام
آنکھوں سے عیاں زخم کی گہرائی تو اب ہے
آنکھوں سے عیاں زخم کی گہرائی تو اب ہے اب آ بھی چکو وقت مسیحائی تو اب ہے پہلے غم فرقت کے یہ تیور تو نہیں تھے رگ رگ میں اترتی ہوئی تنہائی تو اب ہے طاری ہے تمناؤں پہ سکرات کا عالم ہر سانس رفاقت کی تمنائی تو اب ہے کل تک مری وحشت سے فقط تم ہی تھے آگاہ ہر گام پہ اندیشۂ رسوائی تو اب ہے کیا جانے مہکتی ہوئی صبحوں میں کوئی دل شاموں میں کسی درد کی رعنائی تو اب ہے دل سوز یہ تارے ہیں تو جاں سوز یہ مہتاب در اصل شب انجمن آرائی تو اب ہے صف بستہ ہیں ہر موڑ پہ کچھ سنگ بکف لوگ اے زخم ہنر لطف پذیرائی تو اب ہے
گھر کی دہلیز سے بازار میں مت آ جانا
گھر کی دہلیز سے بازار میں مت آ جانا تم کسی چشم خریدار میں مت آ جانا خاک اڑانا انہیں گلیوں میں بھلا لگتا ہے چلتے پھرتے کسی دربار میں مت آ جانا یوں ہی خوشبو کی طرح پھیلتے رہنا ہر سو تم کسی دام طلب گار میں مت آ جانا دور ساحل پہ کھڑے رہ کے تماشا کرنا کسی امید کے منجدھار میں مت آ جانا اچھے لگتے ہو کہ خود سر نہیں خوددار ہو تم ہاں سمٹ کے بت پندار میں مت آ جانا چاند کہتا ہوں تو مطلب نہ غلط لینا تم رات کو روزن دیوار میں مت آ جانا