سپیکرز
نور مائیر کا پیش کردہ کلام
رُتوں کا زہر چکھوں محبس فضا میں رہوں
رُتوں کا زہر چکھوں محبس فضا میں رہوں مرے جنوں کا تقاضا ہے ابتلا میں رہوں چمک پڑوں سرد اماں آرزو ہر شب میں اشک بن کے تری چشم نیم وا میں رہوں یہ بے وفا مرے ہر جائیوں کا شہر سہی کچھ اور دیر اسی خواب کی فضا میں رہوں سہوں عذاب سدا موسموں کا شام و سحر اسیر وقت رہوں جسم کی قبا میں رہوں یہ کیا سزا ہے کہ لب تشنہ عمر بھر ساجدؔ میں اپنی ذات کے میدان کربلا میں رہوں
اندر سےکوئی گھنگھرو چھنکے کوئی گیت سنیں تو لکھیں بھی
اندر سےکوئی گھنگھرو چھنکے کوئی گیت سنیں تو لکھیں بھی ہم دھیان کی آگ میں تپتے ہیں کچھ اور تپیں تو لکھیں بھی یہ لوگ بیچارے کیا جانیں کیوں ہم نے حرف کا جوگ لیا اس راہ چلیں تو سمجھیں بھی اس آگ جلیں تو لکھیں بھی دن رات ہوئے ہم وقفِ رفو اب کیا محفل کیا فکرسخن یہ ہات رکیں تو سوچیں بھی یہ زخم سلیں تو لکھیں بھی ان دیواروں سے کیا کہنا یہ پتھر کس کی سنتے ہیں وہ شہر ملے تو روئیں بھی وہ لوگ ملیں تو لکھیں بھی خالی ہے من کشکول اپنا کاغذ پہ الٹ کے سرمایہ جوکشٹ کمائے لکھ ڈالے دکھ اور سہیں تو لکھیں بھی یہ میلانوں کے سوداگر یہ رحجاناں کے شعبدہ گر جیبوں پہ سجاتے ہیں چوٹیں کچھ دل پہ سہیں تو لکھیں بھی