سپیکرز
ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام
بچھڑے تو قربتوں کی دعا بھی نہ کر سکے
بچھڑے تو قربتوں کی دعا بھی نہ کر سکے اب کے تجھے سپردِ خدا بھی نہ کر سکے تقسیم ہو کے رہ گئے صد کرچیوں میں ہم نامِ وفا کا قرض ادا بھی نہ کر سکے نازک مزاج لوگ تھے ہم جیسے آئینہ ٹوٹے کچھ اس طرح کہ صدا بھی نہ کر سکے خوش بھی نہ رکھ سکے تجھے ہم اپنی چاہ میں اچھی طرح سے تجھ کو خفا بھی نہ کر سکے
ہم بھی شکستہ دل ہیں، پریشان تم بھی ہو
ہم بھی شکستہ دل ہیں، پریشان تم بھی ہو اندر سے ریزہ ریزہ میری جان تم بھی ہو ہم بھی ہیں ایک اجڑے ہوئے شہر کی طرح آنکھیں بتا رہی ہیں کہ ویران تم بھی ہو درپیش ہے ہمیں بھی کڑی دھوپ کا سفر سائے کی آرزو میں پریشان تم بھی ہو ہم بھی خزاں کی شام کا آنگن ہیں، بے چراغ بیلیں ہیں جس کی زرد وہ دالان تم بھی ہو جیسے کسی خیال کا سایہ ہیں دو وجود ہم بھی اگر قیاس ہیں، امکان تم بھی ہو مل جائیں ہم تو کیسا سہانا سفر کٹے گھائل ہیں ہم بھی، سوختہ سامان تم بھی ہو
ترستی آنکھیں , اداس چہرہ , نحیف لہجہ , بغیر تیرے
ترستی آنکھیں , اداس چہرہ , نحیف لہجہ , بغیر تیرے بکھری زلفیں , لباس اجڑا , وجود خستہ , بغیر تیرے عمیق جنگل, گھپ اندھیرا, ﮈوبی سانسیں,ضعیف دھڑکن برہنہ پاؤں , بے نام منزل , نشاں نہ رستہ , بغیر تیرے خاموش بلبل , سرد پت جھڑ, بے رنگ موسم,ویران گلشن نہ پھول خوشبو , ہوا نہ بادل نہ کوئی نغمہ , بغیر تیرے امید مدھم ,مزاج برھم, مایوس جیون , بے آس ہر دم نہ کوئی خواہش نہ کوئی حسرت, نہ ہے تمنا , بغیر تیرے کالی صبحیں , سرخ راتیں , وقت ساکن , اداس شامیں ہزار صدیوں کے ہے برابر , ہر ایک لمحہ , بغیر تیرے تعویز الٹے , ادھوری منت , وظیفے , جادو ناکام سارے نہ استخارہ ہی کام آیا , نہ کوئی دھاگہ , بغیر تیرے عجیب قسمت , نصیب الجھا , غلط لکیریں میرا مقدر ہاں گردشوں میں یہ آگیا ہے میرا ستارہ , بغیر تیرے ہجر کامل , فراق حاوی , جدائی یکسر , طویل دوری خواب قربت , وصال حسرت , رضا ہے تنہا , بغیر تیرے