اعتبارساجد

ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)

01 December 2025

16سپیکرز
229لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

آنکھوں سے عیاں زخم کی گہرائی تو اب ہے

آنکھوں سے عیاں زخم کی گہرائی تو اب ہے اب آ بھی چکو وقت مسیحائی تو اب ہے پہلے غم فرقت کے یہ تیور تو نہیں تھے رگ رگ میں اترتی ہوئی تنہائی تو اب ہے طاری ہے تمناؤں پہ سکرات کا عالم ہر سانس رفاقت کی تمنائی تو اب ہے کل تک مری وحشت سے فقط تم ہی تھے آگاہ ہر گام پہ اندیشۂ رسوائی تو اب ہے کیا جانے مہکتی ہوئی صبحوں میں کوئی دل شاموں میں کسی درد کی رعنائی تو اب ہے دل سوز یہ تارے ہیں تو جاں سوز یہ مہتاب در اصل شب انجمن آرائی تو اب ہے صف بستہ ہیں ہر موڑ پہ کچھ سنگ بکف لوگ اے زخم ہنر لطف پذیرائی تو اب ہے

— اعتبارساجد

ترک تعلق کر تو چکے ہیں اک امکان ابھی باقی ہے

ترک تعلق کر تو چکے ہیں اک امکان ابھی باقی ہے ایک محاذ سے لوٹ آئے ہیں اک میدان ابھی باقی ہے شاید اس نے ہنسی ہنسی میں ترک وفا کا ذکر کیا ہو یونہی سی اک خوش فہمی ہے اطمینان ابھی باقی ہے راتیں اس کے ہجر میں اب بھی نزع کے عالم میں کٹتی ہیں دل میں ویسی ہی وحشت ہے تن میں جان ابھی باقی ہے بچپن کے اس گھر کے سارے کمرے ملیا میٹ ہوئے جس میں ہم کھیلا کرتے تھے وہ دالان ابھی باقی ہے دیئے منڈیر پہ رکھ آتے ہیں ہم ہر شام نہ جانے کیوں شاید اس کے لوٹ آنے کا کچھ امکان ابھی باقی ہے ایک عدالت اور ہے جس میں ہم تم اک دن حاضر ہوں گے فیصلہ سن کر خوش مت ہونا اک میزان ابھی باقی ہے

— اعتبارساجد