سپیکرز
حسن شبیر کا پیش کردہ کلام
جانے کس چاہ کے کس پیار کے گن گاتے ہو
جانے کس چاہ کے کس پیار کے گن گاتے ہو رات دن کون سے دل دار کے گن گاتے ہو یہ تو دیکھو کہ تمہیں لوٹ لیا ہے اس نے اک تبسم پہ خریدار کے گن گاتے ہو اپنی تنہائی پہ نازاں ہو مرے سادہ مزاج اپنے سونے در و دیوار کے گن گاتے ہو اپنے ہی ذہن کی تخلیق پہ اتنے سرشار اپنے افسانوی کردار کے گن گاتے ہو اور لوگوں کے بھی گھر ہوتے ہیں گھر والے بھی صرف اپنے در و دیوار کے گن گاتے ہو
یہ برسوں کا تعلق توڑ دینا چاہتے ہیں ہم
یہ برسوں کا تعلق توڑ دینا چاہتے ہیں ہم اب اپنے آپ کو بھی چھوڑ دینا چاہتے ہیں ہم کسی دہلیز پر آنکھوں کے یہ روشن دیئے رکھ کر ضمیر صبح کو جھنجھوڑ دینا چاہتے ہیں ہم جدھر ہم جا رہے ہیں اس طرف ٹوٹا ہوا پل ہے یہ باگیں اس سے پہلے موڑ دینا چاہتے ہیں ہم یہ نوبت کل جو آنی ہے تو شرمندہ نہیں ہوں گے مراسم احتیاطاً توڑ دینا چاہتے ہیں ہم عجب دیوانگی ہے جس کے ہم سائے میں بیٹھے ہیں اسی دیوار سے سر پھوڑ دینا چاہتے ہیں ہم تعلق کرچیوں کی شکل میں بکھرا تو ہے پھر بھی شکستہ آئینوں کو جوڑ دینا چاہتے ہیں ہم