اعتبارساجد

ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)

01 December 2025

16سپیکرز
229لسنرز

سپیکرز

حسن شبیر کا پیش کردہ کلام

جانے کس چاہ کے کس پیار کے گن گاتے ہو

جانے کس چاہ کے کس پیار کے گن گاتے ہو رات دن کون سے دل دار کے گن گاتے ہو یہ تو دیکھو کہ تمہیں لوٹ لیا ہے اس نے اک تبسم پہ خریدار کے گن گاتے ہو اپنی تنہائی پہ نازاں ہو مرے سادہ مزاج اپنے سونے در و دیوار کے گن گاتے ہو اپنے ہی ذہن کی تخلیق پہ اتنے سرشار اپنے افسانوی کردار کے گن گاتے ہو اور لوگوں کے بھی گھر ہوتے ہیں گھر والے بھی صرف اپنے در و دیوار کے گن گاتے ہو

— اعتبارساجد

یہ برسوں کا تعلق توڑ دینا چاہتے ہیں ہم

یہ برسوں کا تعلق توڑ دینا چاہتے ہیں ہم اب اپنے آپ کو بھی چھوڑ دینا چاہتے ہیں ہم کسی دہلیز پر آنکھوں کے یہ روشن دیئے رکھ کر ضمیر صبح کو جھنجھوڑ دینا چاہتے ہیں ہم جدھر ہم جا رہے ہیں اس طرف ٹوٹا ہوا پل ہے یہ باگیں اس سے پہلے موڑ دینا چاہتے ہیں ہم یہ نوبت کل جو آنی ہے تو شرمندہ نہیں ہوں گے مراسم احتیاطاً توڑ دینا چاہتے ہیں ہم عجب دیوانگی ہے جس کے ہم سائے میں بیٹھے ہیں اسی دیوار سے سر پھوڑ دینا چاہتے ہیں ہم تعلق کرچیوں کی شکل میں بکھرا تو ہے پھر بھی شکستہ آئینوں کو جوڑ دینا چاہتے ہیں ہم

— اعتبارساجد