اعتبارساجد

ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)

01 December 2025

16سپیکرز
229لسنرز

سپیکرز

انتظار حسین کا پیش کردہ کلام

جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے جو محبتوں کی اساس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے جنہیں مانتا ہی نہیں یہ دل وہی لوگ میرے ہیں ہم سفر مجھے ہر طرح سے جو راس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے مجھے لمحہ بھر کی رفاقتوں کے سراب اور ستائیں گے مری عمر بھر کی جو پیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے یہ خیال سارے ہیں عارضی یہ گلاب سارے ہیں کاغذی گل آرزو کی جو باس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے جنہیں کر سکا نہ قبول میں وہ شریک راہ سفر ہوئے جو مری طلب مری آس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے مری دھڑکنوں کے قریب تھے مری چاہ تھے مرا خواب تھے وہ جو روز و شب مرے پاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

— اعتبارساجد

میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوں

میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوں جنم دن ہے اکیلا رو رہا ہوں کسی نے جھانک کر دیکھا نہ دل میں کہ میں اندر سے کیسا ہو رہا ہوں جو دل پر داغ ہیں پچھلی رتوں کے انہیں اب آنسوؤں سے دھو رہا ہوں سبھی پرچھائیاں ہیں ساتھ لیکن بھری محفل میں تنہا ہو رہا ہوں مجھے ان نسبتوں سے کون سمجھا میں رشتے میں کسی کا جو رہا ہوں میں چونک اٹھتا ہوں اکثر بیٹھے بیٹھے کہ جیسے جاگتے میں سو رہا ہوں کسے پانے کی خواہش ہے کہ ساجدؔ میں رفتہ رفتہ خود کو کھو رہا ہوں

— اعتبارساجد