سپیکرز
انتظار حسین کا پیش کردہ کلام
جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے
جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے جو محبتوں کی اساس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے جنہیں مانتا ہی نہیں یہ دل وہی لوگ میرے ہیں ہم سفر مجھے ہر طرح سے جو راس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے مجھے لمحہ بھر کی رفاقتوں کے سراب اور ستائیں گے مری عمر بھر کی جو پیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے یہ خیال سارے ہیں عارضی یہ گلاب سارے ہیں کاغذی گل آرزو کی جو باس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے جنہیں کر سکا نہ قبول میں وہ شریک راہ سفر ہوئے جو مری طلب مری آس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے مری دھڑکنوں کے قریب تھے مری چاہ تھے مرا خواب تھے وہ جو روز و شب مرے پاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے
میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوں
میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوں جنم دن ہے اکیلا رو رہا ہوں کسی نے جھانک کر دیکھا نہ دل میں کہ میں اندر سے کیسا ہو رہا ہوں جو دل پر داغ ہیں پچھلی رتوں کے انہیں اب آنسوؤں سے دھو رہا ہوں سبھی پرچھائیاں ہیں ساتھ لیکن بھری محفل میں تنہا ہو رہا ہوں مجھے ان نسبتوں سے کون سمجھا میں رشتے میں کسی کا جو رہا ہوں میں چونک اٹھتا ہوں اکثر بیٹھے بیٹھے کہ جیسے جاگتے میں سو رہا ہوں کسے پانے کی خواہش ہے کہ ساجدؔ میں رفتہ رفتہ خود کو کھو رہا ہوں