اعتبارساجد

ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)

01 December 2025

16سپیکرز
229لسنرز

سپیکرز

نایاب کا پیش کردہ کلام

ترے جیسا میرا بھی حال تھا نہ سکون تھا نہ قرار تھا

ترے جیسا میرا بھی حال تھا نہ سکون تھا نہ قرار تھا یہی عمر تھی مرے ہم نشیں کہ کسی سے مجھ کو بھی پیار تھا میں سمجھ رہا ہوں تری کسک ترا میرا درد ہے مشترک اسی غم کا تو بھی اسیر ہے اسی دکھ کا میں بھی شکار تھا فقط ایک دھن تھی کہ رات دن اسی خواب زار میں گم رہیں وہ سرور ایسا سرور تھا وہ خمار ایسا خمار تھا کبھی لمحہ بھر کی بھی گفتگو مری اس کے ساتھ نہ ہو سکی مجھے فرصتیں نہیں مل سکیں وہ ہوا کے رتھ پہ سوار تھا ہم عجیب طرز کے لوگ تھے کہ ہمارے اور ہی روگ تھے میں خزاں میں اس کا تھا منتظر اسے انتظار بہار تھا اسے پڑھ کے تم نہ سمجھ سکے کہ مری کتاب کے روپ میں کوئی قرض تھا کئی سال کا کئی رت جگوں کا ادھار تھا

— اعتبارساجد

کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہا

کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہا یہ اور بات اب وہ ہمارا نہیں رہا آنسو ترے بھی خشک ہوئے اور میرے بھی نم اب کسی ندی کا کنارا نہیں رہا کچھ دن تمہارے لوٹ کے آنے کی آس تھی اب اس امید کا بھی سہارا نہیں رہا رستے مہہ‌ و نجوم کے تبدیل ہو گئے ان کھڑکیوں میں ایک بھی تارا نہیں رہا سمجھے تھے دوسروں سے بہت مختلف تجھے کیا مان لیں کہ تو بھی ہمارا نہیں رہا ہاتھوں پہ بجھ گئی ہے مقدر کی کہکشاں یا راکھ ہو گیا وہ ستارا نہیں رہا تم اعتبار اس کے لیے کیوں اداس ہو اک شخص جو کبھی بھی تمہارا نہیں رہا

— اعتبارساجد