سپیکرز
نایاب کا پیش کردہ کلام
ترے جیسا میرا بھی حال تھا نہ سکون تھا نہ قرار تھا
ترے جیسا میرا بھی حال تھا نہ سکون تھا نہ قرار تھا یہی عمر تھی مرے ہم نشیں کہ کسی سے مجھ کو بھی پیار تھا میں سمجھ رہا ہوں تری کسک ترا میرا درد ہے مشترک اسی غم کا تو بھی اسیر ہے اسی دکھ کا میں بھی شکار تھا فقط ایک دھن تھی کہ رات دن اسی خواب زار میں گم رہیں وہ سرور ایسا سرور تھا وہ خمار ایسا خمار تھا کبھی لمحہ بھر کی بھی گفتگو مری اس کے ساتھ نہ ہو سکی مجھے فرصتیں نہیں مل سکیں وہ ہوا کے رتھ پہ سوار تھا ہم عجیب طرز کے لوگ تھے کہ ہمارے اور ہی روگ تھے میں خزاں میں اس کا تھا منتظر اسے انتظار بہار تھا اسے پڑھ کے تم نہ سمجھ سکے کہ مری کتاب کے روپ میں کوئی قرض تھا کئی سال کا کئی رت جگوں کا ادھار تھا
کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہا
کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہا یہ اور بات اب وہ ہمارا نہیں رہا آنسو ترے بھی خشک ہوئے اور میرے بھی نم اب کسی ندی کا کنارا نہیں رہا کچھ دن تمہارے لوٹ کے آنے کی آس تھی اب اس امید کا بھی سہارا نہیں رہا رستے مہہ و نجوم کے تبدیل ہو گئے ان کھڑکیوں میں ایک بھی تارا نہیں رہا سمجھے تھے دوسروں سے بہت مختلف تجھے کیا مان لیں کہ تو بھی ہمارا نہیں رہا ہاتھوں پہ بجھ گئی ہے مقدر کی کہکشاں یا راکھ ہو گیا وہ ستارا نہیں رہا تم اعتبار اس کے لیے کیوں اداس ہو اک شخص جو کبھی بھی تمہارا نہیں رہا