اعتبارساجد

ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)

01 December 2025

16سپیکرز
229لسنرز

سپیکرز

وسیم بخاری کا پیش کردہ کلام

تری رحمتوں کے دیار میں ترے بادلوں کو پتا نہیں

تری رحمتوں کے دیار میں ترے بادلوں کو پتا نہیں ابھی آگ سرد ہوئی نہیں ابھی اک الاؤ جلا نہیں مری بزم دل تو اجڑ چکی مرا فرش جاں تو سمٹ چکا سبھی جا چکے مرے ہم نشیں مگر ایک شخص گیا نہیں در و بام سب نے سجا لیے سبھی روشنی میں نہا لیے مری انگلیاں بھی جھلس گئیں مگر اک چراغ جلا نہیں غم زندگی تری راہ میں شب آرزو تری چاہ میں جو اجڑ گیا وہ بسا نہیں جو بچھڑ گیا وہ ملا نہیں جو دل و نظر کا سرور تھا مرے پاس رہ کے بھی دور تھا وہی ایک گلاب امید کا مری شاخ جاں پہ کھلا نہیں پس کارواں سر رہ گزر میں شکستہ پا ہوں تو اس لیے کہ قدم تو سب سے ملا لیے مرا دل کسی سے ملا نہیں مرا ہم سفر جو عجیب ہے تو عجیب تر ہوں میں آپ بھی مجھے منزلوں کی خبر نہیں اسے راستوں کا پتہ نہیں

— اعتبارساجد