سپیکرز
ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام
کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہا
کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہا یہ اور بات اب وہ ہمارا نہیں رہا آنسو ترے بھی خشک ہوئے اور میرے بھی نم اب کسی ندی کا کنارا نہیں رہا کچھ دن تمہارے لوٹ کے آنے کی آس تھی اب اس امید کا بھی سہارا نہیں رہا رستے مہہ و نجوم کے تبدیل ہو گئے ان کھڑکیوں میں ایک بھی تارا نہیں رہا سمجھے تھے دوسروں سے بہت مختلف تجھے کیا مان لیں کہ تو بھی ہمارا نہیں رہا ہاتھوں پہ بجھ گئی ہے مقدر کی کہکشاں یا راکھ ہو گیا وہ ستارا نہیں رہا تم اعتبار اس کے لیے کیوں اداس ہو اک شخص جو کبھی بھی تمہارا نہیں رہا
محتاج ہم سفر کی مسافت نہ تھی مری
محتاج ہم سفر کی مسافت نہ تھی مری سب ساتھ تھے کسی سے رفاقت نہ تھی مری حق کس سے مانگتا کہ مکینوں کے ساتھ ساتھ دیوار و بام و در کو ضرورت نہ تھی مری سچ بول کے بھی دیکھ لیا ان کے سامنے لیکن انہیں پسند صداقت نہ تھی مری میں جن پہ مر مٹا تھا وہ کاغذ کے پھول تھے رسمی مکالمے تھے محبت نہ تھی مری جو دوسروں کے دکھ تھے وہی میرے دکھ بھی تھے کچھ ایسی مختلف بھی حکایت نہ تھی مری بس کچھ اصول تھے جو بہ ہر حال تھے عزیز جانم کسی سے ورنہ عداوت نہ تھی مری