اعتبارساجد

ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)

01 December 2025

16سپیکرز
229لسنرز

سپیکرز

ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام

کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہا

کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہا یہ اور بات اب وہ ہمارا نہیں رہا آنسو ترے بھی خشک ہوئے اور میرے بھی نم اب کسی ندی کا کنارا نہیں رہا کچھ دن تمہارے لوٹ کے آنے کی آس تھی اب اس امید کا بھی سہارا نہیں رہا رستے مہہ‌ و نجوم کے تبدیل ہو گئے ان کھڑکیوں میں ایک بھی تارا نہیں رہا سمجھے تھے دوسروں سے بہت مختلف تجھے کیا مان لیں کہ تو بھی ہمارا نہیں رہا ہاتھوں پہ بجھ گئی ہے مقدر کی کہکشاں یا راکھ ہو گیا وہ ستارا نہیں رہا تم اعتبار اس کے لیے کیوں اداس ہو اک شخص جو کبھی بھی تمہارا نہیں رہا

— اعتبارساجد

محتاج ہم سفر کی مسافت نہ تھی مری

محتاج ہم سفر کی مسافت نہ تھی مری سب ساتھ تھے کسی سے رفاقت نہ تھی مری حق کس سے مانگتا کہ مکینوں کے ساتھ ساتھ دیوار و بام و در کو ضرورت نہ تھی مری سچ بول کے بھی دیکھ لیا ان کے سامنے لیکن انہیں پسند صداقت نہ تھی مری میں جن پہ مر مٹا تھا وہ کاغذ کے پھول تھے رسمی مکالمے تھے محبت نہ تھی مری جو دوسروں کے دکھ تھے وہی میرے دکھ بھی تھے کچھ ایسی مختلف بھی حکایت نہ تھی مری بس کچھ اصول تھے جو بہ ہر حال تھے عزیز جانم کسی سے ورنہ عداوت نہ تھی مری

— اعتبارساجد