اعتبارساجد

ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)

01 December 2025

16سپیکرز
229لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

ڈھونڈتے کیا ہو ان آنکھوں میں کہانی میری

ڈھونڈتے کیا ہو ان آنکھوں میں کہانی میری خود میں گم رہنا تو عادت ہے پرانی میری بھیڑ میں بھی تمہیں مل جاؤں گا آسانی سے کھویا کھویا ہوا رہنا ہے نشانی میری میں نے اک بار کہا تھا کہ بہت پیاسا ہوں تب سے مشہور ہوئی تشنہ دہانی میری یہی دیوار و در و بام تھے میرے ہم راز انہی گلیوں میں بھٹکتی تھی جوانی میری تو بھی اس شہر کا باسی ہے تو دل سے لگ جا تجھ سے وابستہ ہے اک یاد پرانی میری کربلا دشت محبت کو بنا رکھا ہے کیا غزل گوئی ہے کیا مرثیہ خوانی میری دھیمے لہجے کا سخنور ہوں نہ صہبا ہوں نہ جوش میں کہاں اور کہاں شعلہ بیانی میری

— اعتبارساجد

اپنی صفائی میں کوئی ہم نے بیاں نہیں دیا

اپنی صفائی میں کوئی ہم نے بیاں نہیں دیا جل جل کے راکھ ہو گئے پھر بھی دھواں نہیں دیا کتنی تھی سنگ دل ہوا ، جس نے ہم اہل شوق کے سارے دیے بجھا دیئے ازنِ فغاں نہیں دیا ایسا نہیں ملا کوئی جس سے بیان حال ہو ورنہ تو اشتہار دل ہم نے کہاں نہیں دیا پنجرے کی جالیوں سے کچھ پھول دکھائی دے سکیں اب کے بہار نے ہمیں ایسا سماں نہیں دیا کیسے ہیں بد نصیب لوگ ، جن کو خدا نے دہر نہیں دیا نطق تو کر دیا عطا ، حسن بیاں نہیں دیا تخت پے بیٹھ کر بھی وہ رب سے گلہ گزار ہیں رنج یہ ہے کہ کیوں انہیں تخت رواں نہیں دیا

— اعتبارساجد