سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
ڈھونڈتے کیا ہو ان آنکھوں میں کہانی میری
ڈھونڈتے کیا ہو ان آنکھوں میں کہانی میری خود میں گم رہنا تو عادت ہے پرانی میری بھیڑ میں بھی تمہیں مل جاؤں گا آسانی سے کھویا کھویا ہوا رہنا ہے نشانی میری میں نے اک بار کہا تھا کہ بہت پیاسا ہوں تب سے مشہور ہوئی تشنہ دہانی میری یہی دیوار و در و بام تھے میرے ہم راز انہی گلیوں میں بھٹکتی تھی جوانی میری تو بھی اس شہر کا باسی ہے تو دل سے لگ جا تجھ سے وابستہ ہے اک یاد پرانی میری کربلا دشت محبت کو بنا رکھا ہے کیا غزل گوئی ہے کیا مرثیہ خوانی میری دھیمے لہجے کا سخنور ہوں نہ صہبا ہوں نہ جوش میں کہاں اور کہاں شعلہ بیانی میری
اپنی صفائی میں کوئی ہم نے بیاں نہیں دیا
اپنی صفائی میں کوئی ہم نے بیاں نہیں دیا جل جل کے راکھ ہو گئے پھر بھی دھواں نہیں دیا کتنی تھی سنگ دل ہوا ، جس نے ہم اہل شوق کے سارے دیے بجھا دیئے ازنِ فغاں نہیں دیا ایسا نہیں ملا کوئی جس سے بیان حال ہو ورنہ تو اشتہار دل ہم نے کہاں نہیں دیا پنجرے کی جالیوں سے کچھ پھول دکھائی دے سکیں اب کے بہار نے ہمیں ایسا سماں نہیں دیا کیسے ہیں بد نصیب لوگ ، جن کو خدا نے دہر نہیں دیا نطق تو کر دیا عطا ، حسن بیاں نہیں دیا تخت پے بیٹھ کر بھی وہ رب سے گلہ گزار ہیں رنج یہ ہے کہ کیوں انہیں تخت رواں نہیں دیا