سپیکرز
انتظار حسین کا پیش کردہ کلام
بہت تاریک صحرا ہو گیا ہے
بہت تاریک صحرا ہو گیا ہے ہوا کا شور گہرا ہو گیا ہے کسی کے لمس کا یہ معجزہ ہے بدن سارا سنہرا ہو گیا ہے یہ دل دیکھوں کہ جس کے چار جانب تری یادوں کا پہرا ہو گیا ہے وہی ہے خال و خد میں روشنی سی پہ تل آنکھوں کا گہرا ہو گیا ہے کبھی اس شخص کو دیکھا ہے تم نے محبت سے سنہرا ہو گیا ہے
ہر جانب ویرانی بھی ہو سکتی ہے
ہر جانب ویرانی بھی ہو سکتی ہے صبح کی رنگت دھانی بھی ہو سکتی ہے جب کشتی ڈالی تھی کس نے سوچا تھا دریا میں طغیانی بھی ہو سکتی ہے نئے سفر کے نئے عذاب اور نئے گلاب صورت حال پرانی بھی ہو سکتی ہے ہر پل جو دل کو دہلائے رکھتی ہے کچھ بھی نہیں حیرانی بھی ہو سکتی ہے سفر ارادہ کر تو لیا پر رستوں میں رات کوئی طوفانی بھی ہو سکتی ہے اس کو میرے نام سے نسبت ہے لیکن بات یہ آنی جانی بھی ہو سکتی ہے
روح من
اے میری روح میں سلے ہوئے شخص تم سے دوری میرے ذہن کو بہت بے چین کرتی ہے میں نہیں جانتا مجھ سے دوری تمہارے پاس میرے لئے وقت کی قلت ہے یا تمہارا مجھے نظر انداز کرنا مجھ سے اب صبر نہیں ہوتا یہ دسمبر کی ٹھٹھرتی ہوئی راتیں مجھ پہ قہر ڈھاتی ہیں میری روح تمہارے نہ ہونے سے بہت اداس اور بے چین ہے سنو میں بہت بے چین ہوں میرا دل شدت سے تمہیں پکار رہا ہے تم میری تڑپ کو محسوس کرو اور اپنی آواز کا رس میرے کانوں میں گھولو تاکہ میری سانسیں مہک اٹھیں اور میرا بے جان جسم حرکت کرے میری نبضیں دوڑنا شروع کریں میری ویران جبین کو تمہارے شفایاب لبوں کی ضرورت ہے میری نبضیں مدھم پڑ چکی ہیں میرا دل اس غصب ناک اداسی میں ڈوب چکا ہے آؤ اور میری اداسی دور کرو مگر ... تم ہو کہ اب مجھے میسر ہی نہیں آتے