سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
سحربیاں
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
ابو لقمان
افراسیاب
امل خان
انتظار حسین
ایم سعید
رابعہ
راجا اکرام قمر
سجاد رضا
شاہین
عنصر عظیم
کریسنٹ
ملک
نایاب
شاہین کا پیش کردہ کلام
کوئی مجھ کو مرا بھر پور سراپا لا دے
کوئی مجھ کو مرا بھر پور سراپا لا دے مرے بازو ، مری آنکھیں، مرا چہرہ لا دے ایسا دریا جو کسی اور سمندر میں گرے اس سے بہتر ہے کہ مجھ کو مرا صحرا لا دے کچھ نہیں چاہئے تجھ سے اے مری عمرِ رواں مرا بچپن، مرے جگنو، مری گڑیا لا دے جس کی آنکھیں مجھے اندر سے بھی پڑھ سکتی ہوں کوئی چہرہ تو مرے شہر میں ایسا لا دے کشتئ جاں تو بھنور میں ہے کئی برسوں سے اے خدا اب تو ڈبو دے یا کنارا لا دے