نوشی گیلانی

اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)

25 December 2025

13سپیکرز
239لسنرز

سپیکرز

ایمان کا پیش کردہ کلام

اب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوا

اب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوا اس دل کی جھیل سی آنکھوں میں اک خواب بہت برباد ہوا یہ ہجر ہوا بھی دشمن ہے اس نام کے سارے رنگوں کی وہ نام جو میرے ہونٹوں پر خوشبو کی طرح آباد ہوا اس شہر میں کتنے چہرے تھے کچھ یاد نہیں سب بھول گئے اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا وہ اپنے گاؤں کی گلیاں تھیں دل جن میں ناچتا گاتا تھا اب اس سے فرق نہیں پڑتا ناشاد ہوا یا شاد ہوا بے نام ستائش رہتی تھی ان گہری سانولی آنکھوں میں ایسا تو کبھی سوچا بھی نہ تھا دل اب جتنا بیداد ہوا

— نوشی گیلانی

ہمیں کس ہاتھ کی محبوب ریکھاؤں میں رہنا تھا

ہمیں کس ہاتھ کی محبوب ریکھاؤں میں رہنا تھا کس دل میں اترنا تھا چمکنا تھا کن آنکھوں میں کہاں پر پھول بننا تھا تو کب خوشبو کی صورت کوئے جاناں سے گزرنا تھا سمجھ میں کچھ نہیں آتا ہمیں کس قریۂ آب و ہوا کے سنگ رہنا تھا کہاں شامیں گزرنی تھیں کہاں مہتاب راتوں میں کسی کو یاد کرنا تھا کسی کو بھول جانا تھا کہاں پر صبح کا آغاز کرنا تھا کہاں سورج نکلنا تھا سفر کے دشت میں تنہا تھکے ہارے مسافر کو کہاں خیمہ لگانا تھا کہاں دریا میں کشتی ڈالنا تھی اور کس ساحل اترنا تھا سمجھ میں کچھ نہیں آتا ہمیں کس قریۂ آب و ہوا کے سنگ رہنا تھا

— نوشی گیلانی

اداس شام کی ایک نظم

وصال رت کی یہ پہلی دستک ہی سرزنش ہے کہ ہجر موسم نے رستے رستے سفر کا آغاز کر دیا ہے تمہارے ہاتھوں کا لمس جب بھی مری وفا کی ہتھیلیوں پر حنا بنے گا تو سوچ لوں گی رفاقتوں کا سنہرا سورج غروب کے امتحان میں ہے ہمارے باغوں سے گر کبھی تتلیوں کی خوشبو گزر نہ پائے تو یہ نہ کہنا کہ تتلیوں نے گلاب رستے بدل لیے ہیں اگر کوئی شام یوں بھی آئے کہ جس میں ہم تم لگیں پرائے تو جان لینا کہ شام بے بس تھی شب کی تاریکیوں کے ہاتھوں تمہاری خواہش کی مٹھیاں بے دھیانیوں میں کبھی کھلیں تو یقین کرنا کہ میری چاہت کے جگنوؤں نے تمہارے ہاتھوں کے لمس تازہ کی خواہشوں میں بڑے گھنیرے اندھیرے کاٹے مگر یہ خدشے، یہ وسوسے تو تکلفاً ہیں جو بے ارادہ سفر پہ نکلیں تو یہ تو ہوتا ہے یہ تو ہوگا ہم اپنے جذبوں کو منجمد رائیگانیوں کے سپرد کر کے یہ سوچ لیں گے کہ ہجر موسم تو وصل کی پہلی شام سے ہی سفر کا آغاز کر چکا تھا

— نوشی گیلانی

میں سردار عورت ہوں

زمانے کے چلن سے برسرِ پیکار عورت ہوں سو ہر اک مرحلے پر جبر سے دوچار عورت ہوں گناہوں میں بہت بھی ہو تو حصہ نصف ہے میرا سزاؤں کے لیے تنہا مگر حقدار عورت ہوں یہ بے برکت رفاقت دسترس کی دین ہے پیارے! تجھے حاصل ہوں اب تیرے لیے بیکار عورت ہوں میرے اندر نمو پاتی ہیں آنے والی نسلیں بھی خدا کے بعد مَیں تخلیق کا کردار عورت ہوں میں اپنے بھائیوں کو زندگی کے گُر سکھاتی تھی میرے ابو یہ کہتے تھے کہ میں سردار عورت ہوں۔۔۔

— صائمہ آفتاب