سپیکرز
ایمان کا پیش کردہ کلام
اب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوا
اب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوا اس دل کی جھیل سی آنکھوں میں اک خواب بہت برباد ہوا یہ ہجر ہوا بھی دشمن ہے اس نام کے سارے رنگوں کی وہ نام جو میرے ہونٹوں پر خوشبو کی طرح آباد ہوا اس شہر میں کتنے چہرے تھے کچھ یاد نہیں سب بھول گئے اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا وہ اپنے گاؤں کی گلیاں تھیں دل جن میں ناچتا گاتا تھا اب اس سے فرق نہیں پڑتا ناشاد ہوا یا شاد ہوا بے نام ستائش رہتی تھی ان گہری سانولی آنکھوں میں ایسا تو کبھی سوچا بھی نہ تھا دل اب جتنا بیداد ہوا
ہمیں کس ہاتھ کی محبوب ریکھاؤں میں رہنا تھا
ہمیں کس ہاتھ کی محبوب ریکھاؤں میں رہنا تھا کس دل میں اترنا تھا چمکنا تھا کن آنکھوں میں کہاں پر پھول بننا تھا تو کب خوشبو کی صورت کوئے جاناں سے گزرنا تھا سمجھ میں کچھ نہیں آتا ہمیں کس قریۂ آب و ہوا کے سنگ رہنا تھا کہاں شامیں گزرنی تھیں کہاں مہتاب راتوں میں کسی کو یاد کرنا تھا کسی کو بھول جانا تھا کہاں پر صبح کا آغاز کرنا تھا کہاں سورج نکلنا تھا سفر کے دشت میں تنہا تھکے ہارے مسافر کو کہاں خیمہ لگانا تھا کہاں دریا میں کشتی ڈالنا تھی اور کس ساحل اترنا تھا سمجھ میں کچھ نہیں آتا ہمیں کس قریۂ آب و ہوا کے سنگ رہنا تھا
اداس شام کی ایک نظم
وصال رت کی یہ پہلی دستک ہی سرزنش ہے کہ ہجر موسم نے رستے رستے سفر کا آغاز کر دیا ہے تمہارے ہاتھوں کا لمس جب بھی مری وفا کی ہتھیلیوں پر حنا بنے گا تو سوچ لوں گی رفاقتوں کا سنہرا سورج غروب کے امتحان میں ہے ہمارے باغوں سے گر کبھی تتلیوں کی خوشبو گزر نہ پائے تو یہ نہ کہنا کہ تتلیوں نے گلاب رستے بدل لیے ہیں اگر کوئی شام یوں بھی آئے کہ جس میں ہم تم لگیں پرائے تو جان لینا کہ شام بے بس تھی شب کی تاریکیوں کے ہاتھوں تمہاری خواہش کی مٹھیاں بے دھیانیوں میں کبھی کھلیں تو یقین کرنا کہ میری چاہت کے جگنوؤں نے تمہارے ہاتھوں کے لمس تازہ کی خواہشوں میں بڑے گھنیرے اندھیرے کاٹے مگر یہ خدشے، یہ وسوسے تو تکلفاً ہیں جو بے ارادہ سفر پہ نکلیں تو یہ تو ہوتا ہے یہ تو ہوگا ہم اپنے جذبوں کو منجمد رائیگانیوں کے سپرد کر کے یہ سوچ لیں گے کہ ہجر موسم تو وصل کی پہلی شام سے ہی سفر کا آغاز کر چکا تھا
میں سردار عورت ہوں
زمانے کے چلن سے برسرِ پیکار عورت ہوں سو ہر اک مرحلے پر جبر سے دوچار عورت ہوں گناہوں میں بہت بھی ہو تو حصہ نصف ہے میرا سزاؤں کے لیے تنہا مگر حقدار عورت ہوں یہ بے برکت رفاقت دسترس کی دین ہے پیارے! تجھے حاصل ہوں اب تیرے لیے بیکار عورت ہوں میرے اندر نمو پاتی ہیں آنے والی نسلیں بھی خدا کے بعد مَیں تخلیق کا کردار عورت ہوں میں اپنے بھائیوں کو زندگی کے گُر سکھاتی تھی میرے ابو یہ کہتے تھے کہ میں سردار عورت ہوں۔۔۔