نوشی گیلانی

اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)

25 December 2025

13سپیکرز
239لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھے

رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھے یہ دل کہ تیرے بعد ، سنبھلتا بھی نہیں ھے اک عمر سے ھم اُس کی تمنا میں ھیں بے خواب وہ چاند جو آنگن میں ، اُترتا بھی نہیں ھے پھر دل میں تیری یاد کے ، منظر ھیں فروزاں ایسے میں کوئی ، دیکھنے والا بھی نہیں ھے ھمراہ بھی خواھش سے ، نہیں رھتا ھمارے اور بامِ رفاقت سے ، اُترتا بھی نہیں ھے اِس عمر کے صحرا سے ، تری یاد کا بادل ٹلتا بھی نہیں ، اور برستا بھی نہیں ھے

— نوشی گیلانی

وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے

وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے کہ جس طرح کوئی لہجہ بدلتا جاتا ہے یہ آرزو تھی کہ ہم اس کے ساتھ ساتھ چلیں مگر وہ شخص تو رستہ بدلتا جاتا ہے رتیں وصال کی اب خواب ہونے والی ہیں کہ اس کی بات کا لہجہ بدلتا جاتا ہے رہا جو دھوپ میں سر پر مرے وہی آنچل ہوا چلی ہے تو کتنا بدلتا جاتا ہے وہ بات کر جسے دنیا بھی معتبر سمجھے تجھے خبر ہے زمانہ بدلتا جاتا ہے

— نوشی گیلانی

ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا پتھر کو گہر دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھنا اک حشر بپا ہے گھر میں دم گھٹتا ہے گنبد بے در میں اک شخص کے ہاتھوں مدت سے رسوا ہے وطن دنیا بھر میں اے دیدہ ورو اس ذلت کو قسمت کا لکھا کیا لکھنا ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا یہ اہل حشم یہ دارا و جم سب نقش بر آب ہیں اے ہم دم مٹ جائیں گے سب پروردۂ شب اے اہل وفا رہ جائیں گے ہم ہو جاں کا زیاں پر قاتل کو معصوم ادا کیا لکھنا ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا لوگوں پہ ہی ہم نے جاں واری کی ہم نے ہی انہی کی غم خواری ہوتے ہیں تو ہوں یہ ہاتھ قلم شاعر نہ بنیں گے درباری ابلیس نما انسانوں کی اے دوست ثنا کیا لکھنا ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا حق بات پہ کوڑے اور زنداں باطل کے شکنجے میں ہے یہ جاں انساں ہیں کہ سہمے بیٹھے ہیں خونخوار درندے ہیں رقصاں اس ظلم و ستم کو لطف و کرم اس دکھ کو دوا کیا لکھنا ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا ہر شام یہاں شام ویراں آسیب زدہ رستے گلیاں جس شہر کی دھن میں نکلے تھے وہ شہر دل برباد کہاں صحرا کو چمن بن کر گلشن بادل کو ردا کیا لکھنا ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا اے میرے وطن کے فن کارو ظلمت پہ نہ اپنا فن وارو یہ محل سراؤں کے باسی قاتل ہیں سبھی اپنے یارو ورثے میں ہمیں یہ غم ہے ملا اس غم کو نیا کیا لکھنا ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا

— فیض احمد فیض