سپیکرز
نایاب کا پیش کردہ کلام
ہر ذرۂ امید سے خوشبو نکل آئے
ہر ذرۂ امید سے خوشبو نکل آئے تنہائی کے صحرا میں اگر تو نکل آئے کیسا لگے اس پار اگر موسم گل میں تتلی کا بدن اوڑھ کے جگنو نکل آئے پھر دن تری یادوں کی منڈیروں پہ گزارا پھر شام ہوئی آنکھ میں آنسو نکل آئے بے چین کیے رہتا ہے دھڑکا یہی جی کو تجھ میں نہ زمانے کی کوئی خو نکل آئے پھر دل نے کیا ترک تعلق کا ارادہ پھر تجھ سے ملاقات کے پہلو نکل آئے
رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھے
رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھے یہ دل کہ تیرے بعد ، سنبھلتا بھی نہیں ھے اک عمر سے ھم اُس کی تمنا میں ھیں بے خواب وہ چاند جو آنگن میں ، اُترتا بھی نہیں ھے پھر دل میں تیری یاد کے ، منظر ھیں فروزاں ایسے میں کوئی ، دیکھنے والا بھی نہیں ھے ھمراہ بھی خواھش سے ، نہیں رھتا ھمارے اور بامِ رفاقت سے ، اُترتا بھی نہیں ھے اِس عمر کے صحرا سے ، تری یاد کا بادل ٹلتا بھی نہیں ، اور برستا بھی نہیں ھے
کبھی تو کھل کے برس ابر مہرباں کی طرح
کبھی تو کھل کے برس ابر مہرباں کی طرح مرا وجود ہے جلتے ہوئے مکاں کی طرح بھری بہار کا سینہ ہے زخم زخم مگر صبا نے گائی ہے لوری شفیق ماں کی طرح وہ کون تھا جو برہنہ بدن چٹانوں سے لپٹ گیا تھا کبھی بحر بیکراں کی طرح سکوت دل تو جزیرہ ہے برف کا لیکن ترا خلوص ہے سورج کے سائباں کی طرح میں ایک خواب سہی آپ کی امانت ہوں مجھے سنبھال کے رکھیے گا جسم و جاں کی طرح کبھی تو سوچ کہ وہ شخص کس قدر تھا بلند جو بچھ گیا ترے قدموں میں آسماں کی طرح بلا رہا ہے مجھے پھر کسی بدن کا بسنت گزر نہ جائے یہ رت بھی کبھی خزاں کی طرح