نوشی گیلانی

اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)

25 December 2025

13سپیکرز
239لسنرز

سپیکرز

نایاب کا پیش کردہ کلام

ہر ذرۂ امید سے خوشبو نکل آئے

ہر ذرۂ امید سے خوشبو نکل آئے تنہائی کے صحرا میں اگر تو نکل آئے کیسا لگے اس پار اگر موسم گل میں تتلی کا بدن اوڑھ کے جگنو نکل آئے پھر دن تری یادوں کی منڈیروں پہ گزارا پھر شام ہوئی آنکھ میں آنسو نکل آئے بے چین کیے رہتا ہے دھڑکا یہی جی کو تجھ میں نہ زمانے کی کوئی خو نکل آئے پھر دل نے کیا ترک تعلق کا ارادہ پھر تجھ سے ملاقات کے پہلو نکل آئے

— نوشی گیلانی

رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھے

رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھے یہ دل کہ تیرے بعد ، سنبھلتا بھی نہیں ھے اک عمر سے ھم اُس کی تمنا میں ھیں بے خواب وہ چاند جو آنگن میں ، اُترتا بھی نہیں ھے پھر دل میں تیری یاد کے ، منظر ھیں فروزاں ایسے میں کوئی ، دیکھنے والا بھی نہیں ھے ھمراہ بھی خواھش سے ، نہیں رھتا ھمارے اور بامِ رفاقت سے ، اُترتا بھی نہیں ھے اِس عمر کے صحرا سے ، تری یاد کا بادل ٹلتا بھی نہیں ، اور برستا بھی نہیں ھے

— نوشی گیلانی

کبھی تو کھل کے برس ابر مہرباں کی طرح

کبھی تو کھل کے برس ابر مہرباں کی طرح مرا وجود ہے جلتے ہوئے مکاں کی طرح بھری بہار کا سینہ ہے زخم زخم مگر صبا نے گائی ہے لوری شفیق ماں کی طرح وہ کون تھا جو برہنہ بدن چٹانوں سے لپٹ گیا تھا کبھی بحر بیکراں کی طرح سکوت دل تو جزیرہ ہے برف کا لیکن ترا خلوص ہے سورج کے سائباں کی طرح میں ایک خواب سہی آپ کی امانت ہوں مجھے سنبھال کے رکھیے گا جسم و جاں کی طرح کبھی تو سوچ کہ وہ شخص کس قدر تھا بلند جو بچھ گیا ترے قدموں میں آسماں کی طرح بلا رہا ہے مجھے پھر کسی بدن کا بسنت گزر نہ جائے یہ رت بھی کبھی خزاں کی طرح

— پریم واربرٹنی