نوشی گیلانی

اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)

25 December 2025

13سپیکرز
239لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

تمام دکھ ہے

تمام دکھ ہے ہمیں خبر ہے تمام دکھ ہے یہ زندگی کو جو آسمانوں کی وسعتوں سے ہزار صدیوں سے مل رہا ہے پیام دکھ ہے جو کار زار زوال ہستی کو دھوپ چھاؤں کی آہٹوں سے چلا رہا ہے نظام دکھ ہے سحر تو اک مختصر سا غم ہے طویل دن کی حویلیوں کے جو راستوں میں ٹهہر گئی ہے وہ شام دکھ ہے یہ شام دکھ ہے کہ اس کی شہ پر کئی دنوں سے مسافران ابد کا ایسے فراق آثار راستوں پر سفر تو خیر ایک المیہ ہے قیام دکھ ہے ہمیں خبر ہے تمام دکھ ہے یہ آس دکھ ہے نراس دکھ ہے اداسیوں کا لباس دکھ ہے یہ تشنگی جو عذاب بن کر ٹهہر گئی ہے بدن کے بوسیدہ ساحلوں پر تو اس کا عہد دوام دکھ ہے یہ شور کرتی ہوا کا سارا خرام دکھ ہے ہمیں خبر ہے تمام دکھ ہے یہ تم محبت نباہتے ہو تو اس محبت کا نام دکھ ہے یہ وصل موسم جو اک مسلسل مغالطہ ہے تو اس رفاقت کا نام دکھ ہے اور ایسی وحشت نما فضا میں خموش رہنا بهی اک سزا ہے مگر کسی سے کلام دکھ ہے ہمیں خبر ہے تمام دکھ ہے۔

— نوشی گیلانی

کہیں کرتے نہیں اظہار، چپ ہیں

کہیں کرتے نہیں اظہار، چپ ہیں ہمیں تو حکم ہے سرکار، چپ ہیں کہانی کچھ بتانا چاہتی ہے مگر اس کے سبھی کردار، چپ ہیں بہت ہے بارش سنگ ملامت مگر ہم صورت کہسار، چپ ہیں ابھی تک ہے بہت محفوظ قاتل کہ مقتل کے درودیوار، چپ ہیں پتہ رہزن کا خلقت پوچھتی ہے مگر بستی کے پہریدار، چپ ہیں وہی موسم، وہی زنجیر شب ہے مگر یہ لوگ کیوں اس بار چپ ہیں

— نوشی گیلانی

رفاقتوں میں پشیمانیاں تو ہوتی ہیں

رفاقتوں میں پشیمانیاں تو ہوتی ہیں کہ دوستوں سے بھی نادانیاں تو ہوتی ہیں بس اس سبب سے کہ تجھ پر بہت بھروسہ تھا گلے نہ ہوں بھی تو حیرانیاں تو ہوتی ہیں اداسیوں کا سبب کیا کہیں بجز اس کے یہ زندگی ہے پریشانیاں تو ہوتی ہیں فرازؔ بھول چکا ہے تیرے فراق کے دکھ کہ شاعروں میں تن آسانیاں تو ہوتی ہیں

— احمد فراز