سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
تمام دکھ ہے
تمام دکھ ہے ہمیں خبر ہے تمام دکھ ہے یہ زندگی کو جو آسمانوں کی وسعتوں سے ہزار صدیوں سے مل رہا ہے پیام دکھ ہے جو کار زار زوال ہستی کو دھوپ چھاؤں کی آہٹوں سے چلا رہا ہے نظام دکھ ہے سحر تو اک مختصر سا غم ہے طویل دن کی حویلیوں کے جو راستوں میں ٹهہر گئی ہے وہ شام دکھ ہے یہ شام دکھ ہے کہ اس کی شہ پر کئی دنوں سے مسافران ابد کا ایسے فراق آثار راستوں پر سفر تو خیر ایک المیہ ہے قیام دکھ ہے ہمیں خبر ہے تمام دکھ ہے یہ آس دکھ ہے نراس دکھ ہے اداسیوں کا لباس دکھ ہے یہ تشنگی جو عذاب بن کر ٹهہر گئی ہے بدن کے بوسیدہ ساحلوں پر تو اس کا عہد دوام دکھ ہے یہ شور کرتی ہوا کا سارا خرام دکھ ہے ہمیں خبر ہے تمام دکھ ہے یہ تم محبت نباہتے ہو تو اس محبت کا نام دکھ ہے یہ وصل موسم جو اک مسلسل مغالطہ ہے تو اس رفاقت کا نام دکھ ہے اور ایسی وحشت نما فضا میں خموش رہنا بهی اک سزا ہے مگر کسی سے کلام دکھ ہے ہمیں خبر ہے تمام دکھ ہے۔
کہیں کرتے نہیں اظہار، چپ ہیں
کہیں کرتے نہیں اظہار، چپ ہیں ہمیں تو حکم ہے سرکار، چپ ہیں کہانی کچھ بتانا چاہتی ہے مگر اس کے سبھی کردار، چپ ہیں بہت ہے بارش سنگ ملامت مگر ہم صورت کہسار، چپ ہیں ابھی تک ہے بہت محفوظ قاتل کہ مقتل کے درودیوار، چپ ہیں پتہ رہزن کا خلقت پوچھتی ہے مگر بستی کے پہریدار، چپ ہیں وہی موسم، وہی زنجیر شب ہے مگر یہ لوگ کیوں اس بار چپ ہیں
رفاقتوں میں پشیمانیاں تو ہوتی ہیں
رفاقتوں میں پشیمانیاں تو ہوتی ہیں کہ دوستوں سے بھی نادانیاں تو ہوتی ہیں بس اس سبب سے کہ تجھ پر بہت بھروسہ تھا گلے نہ ہوں بھی تو حیرانیاں تو ہوتی ہیں اداسیوں کا سبب کیا کہیں بجز اس کے یہ زندگی ہے پریشانیاں تو ہوتی ہیں فرازؔ بھول چکا ہے تیرے فراق کے دکھ کہ شاعروں میں تن آسانیاں تو ہوتی ہیں