سپیکرز
سجاد رضا کا پیش کردہ کلام
بند ہوتی کتابوں میں اڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیں
بند ہوتی کتابوں میں اڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیں کس کی رسموں کی جلتی ہوئی آگ میں لڑکیاں ڈال دیں خوف کیسا ہے یہ نام اس کا کہیں زیر لب بھی نہیں جس نے ہاتھوں میں میرے ہرے کانچ کی چوڑیاں ڈال دیں ہونٹ پیاسے رہے حوصلے تھک گئے عمر صحرا ہوئی ہم نے پانی کے دھوکے میں پھر ریت پر کشتیاں ڈال دیں موسم ہجر کی کیسی ساعت ہے یہ دل بھی حیران ہے میرے کانوں میں کس نے تری یاد کی بالیاں ڈال دیں
سلام رہبر آزادی حیات سلام
سلام رہبر آزادی حیات سلام سلام شاہ شہیدان شش جہات سلام سلام تجھ پہ کہ تیری جسارتوں سے ملی جہان کرب و بلا کو لہو کی سچائی تیرے ہی نام سے روشن ہوا چراغ وفا ترے وجود سے قائم سحر کی رعنائی سلام رہبر آزادی حیات سلام سلام شاہ شہیدان شش جہات سلام سلام تجھ پہ کہ تیری محبتوں سے ملا سراغ عشق محمد کی انتہاوں کا تعصبات کو رد کر کے رکھ دیا تونے سبق عمل سے دیا تو نے بس وفاوں کا سلام رہبر آزادی حیات سلام سلام شاہ شہیدان شش جہات سلام سلام تجھ پہ کہ تیرے لہو کی خوشبو سے خیال وفکر میں خیمہ تیرا مہکتا ہے یہ میرے لفظ جو اب جگمگانے لگتے ہیں ترے گھرانے کے علم و ہنر کا صدقہ ہے سلام رہبر آزادی حیات سلام سلام شاہ شہیدان شش جہات سلام سلام تکھ پہ کہ تیری صداقتوں کے طفیل کبھی رکھا نہیں صحرا میں بھی سفر میرا ملا ہے صبر مجھے تیرے عزم سے ایسا کہ بے کسی میں بھی قائم ہے کرو فر میرا سلام رہبر آزادی حیات سلام سلام شاہ شہیدان شش جہات سلام
ھوں پیادہ میں زندگی تیرا
ھوں پیادہ میں زندگی تیرا کھیل سارا ہے زندگی تیرا تو نچاتی رہی اشاروں پر ھے تماشہ یہ زندگی تیرا اک سزا اور جو مسلسل ہے کیا میں مجرم ہوں زندگی تیرا یوں تو ہر سانس نے اتارا مگر قرض اُترا نہ زندگی تیرا جانے کس پل سفر تمام کرے کیا بھروسہ ھے زندگی تیرا جس کا انجام ہی جُدائی ہے ہے سفر کیسا زندگی تیرا بارہا میں نے پڑھا چہروں پر نوحہ لکھا ہے زندگی تیرا کس کو دعویٰ رضا سمجھنے کا بھید مشکل ھے زندگی تیرا