نوشی گیلانی

اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)

25 December 2025

13سپیکرز
239لسنرز

سپیکرز

سجاد رضا کا پیش کردہ کلام

بند ہوتی کتابوں میں اڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیں

بند ہوتی کتابوں میں اڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیں کس کی رسموں کی جلتی ہوئی آگ میں لڑکیاں ڈال دیں خوف کیسا ہے یہ نام اس کا کہیں زیر لب بھی نہیں جس نے ہاتھوں میں میرے ہرے کانچ کی چوڑیاں ڈال دیں ہونٹ پیاسے رہے حوصلے تھک گئے عمر صحرا ہوئی ہم نے پانی کے دھوکے میں پھر ریت پر کشتیاں ڈال دیں موسم ہجر کی کیسی ساعت ہے یہ دل بھی حیران ہے میرے کانوں میں کس نے تری یاد کی بالیاں ڈال دیں

— نوشی گیلانی

سلام رہبر آزادی حیات سلام

سلام رہبر آزادی حیات سلام سلام شاہ شہیدان شش جہات سلام سلام تجھ پہ کہ تیری جسارتوں سے ملی جہان کرب و بلا کو لہو کی سچائی تیرے ہی نام سے روشن ہوا چراغ وفا ترے وجود سے قائم سحر کی رعنائی سلام رہبر آزادی حیات سلام سلام شاہ شہیدان شش جہات سلام سلام تجھ پہ کہ تیری محبتوں سے ملا سراغ عشق محمد کی انتہاوں کا تعصبات کو رد کر کے رکھ دیا تونے سبق عمل سے دیا تو نے بس وفاوں کا سلام رہبر آزادی حیات سلام سلام شاہ شہیدان شش جہات سلام سلام تجھ پہ کہ تیرے لہو کی خوشبو سے خیال وفکر میں خیمہ تیرا مہکتا ہے یہ میرے لفظ جو اب جگمگانے لگتے ہیں ترے گھرانے کے علم و ہنر کا صدقہ ہے سلام رہبر آزادی حیات سلام سلام شاہ شہیدان شش جہات سلام سلام تکھ پہ کہ تیری صداقتوں کے طفیل کبھی رکھا نہیں صحرا میں بھی سفر میرا ملا ہے صبر مجھے تیرے عزم سے ایسا کہ بے کسی میں بھی قائم ہے کرو فر میرا سلام رہبر آزادی حیات سلام سلام شاہ شہیدان شش جہات سلام

— نوشی گیلانی

ھوں پیادہ میں زندگی تیرا

ھوں پیادہ میں زندگی تیرا کھیل سارا ہے زندگی تیرا تو نچاتی رہی اشاروں پر ھے تماشہ یہ زندگی تیرا اک سزا اور جو مسلسل ہے کیا میں مجرم ہوں زندگی تیرا یوں تو ہر سانس نے اتارا مگر قرض اُترا نہ زندگی تیرا جانے کس پل سفر تمام کرے کیا بھروسہ ھے زندگی تیرا جس کا انجام ہی جُدائی ہے ہے سفر کیسا زندگی تیرا بارہا میں نے پڑھا چہروں پر نوحہ لکھا ہے زندگی تیرا کس کو دعویٰ رضا سمجھنے کا بھید مشکل ھے زندگی تیرا

— سجاد رضا