نوشی گیلانی

اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)

25 December 2025

13سپیکرز
239لسنرز

سپیکرز

ابو لقمان کا پیش کردہ کلام

دل کی منزل اس طرف ہے گھر کا رستہ اس طرف

دل کی منزل اس طرف ہے گھر کا رستہ اس طرف ایک چہرہ اس طرف ہے ایک چہرہ اس طرف روشنی کے استعارے اس کنارے رہ گئے اب تو شب میں کوئی جگنو ہے نا تارا اس طرف تم ہوا ان کھڑکیوں سے صرف اتنا دیکھنا اس نے کوئی خط کسی کے نام لکھا اس طرف یہ محبت بھی عجب تقسیم کے موسم میں ہے سارا جذبہ اس طرف ہے صرف لہجہ اس طرف ماں نے کوئی خوف ایسا رکھ دیا دل میں مرے سچ کبھی میں بول ہی پائی نہ پورا اس طرف ایک ہلکی سی چبھن احساس کو گھیرے رہی گفتگو میں جب تمہارا ذکر آیا اس طرف صرف آنکھیں کانچ کی باقی بدن پتھر کا ہے لڑکیوں نے کس طرح روپ دھارا اس طرف اے ہوا اے میرے دل کے شہر سے آتی ہوا تجھ کو کیا پیغام دے کر اس نے بھیجا اس طرف کس طرح کے لوگ ہیں یہ کچھ پتا چلتا نہیں کون کتنا اس طرف ہے کون کتنا اس طرف

— نوشی گیلانی

عشق کرو تو یہ بھی سوچو عرض سوال سے پہلے

عشق کرو تو یہ بھی سوچو عرض سوال سے پہلے ہجر کی پوری رات آتی ہے صبح وصال سے پہلے دل کا کیا ہے دل نے کتنے منظر دیکھے لیکن آنکھیں پاگل ہو جاتی ہیں ایک خیال سے پہلے کس نے ریت اڑائی شب میں آنکھیں کھول کے رکھیں کوئی مثال تو ہونا اس کی مثال سے پہلے کار محبت ایک سفر ہے اس میں آ جاتا ہے ایک زوال آثار سا رستہ باب کمال سے پہلے عشق میں ریشم جیسے وعدوں اور خوابوں کا رستہ جتنا ممکن ہو طے کر لیں گرد ملال سے پہلے

— نوشی گیلانی