سپیکرز
ابو لقمان کا پیش کردہ کلام
دل کی منزل اس طرف ہے گھر کا رستہ اس طرف
دل کی منزل اس طرف ہے گھر کا رستہ اس طرف ایک چہرہ اس طرف ہے ایک چہرہ اس طرف روشنی کے استعارے اس کنارے رہ گئے اب تو شب میں کوئی جگنو ہے نا تارا اس طرف تم ہوا ان کھڑکیوں سے صرف اتنا دیکھنا اس نے کوئی خط کسی کے نام لکھا اس طرف یہ محبت بھی عجب تقسیم کے موسم میں ہے سارا جذبہ اس طرف ہے صرف لہجہ اس طرف ماں نے کوئی خوف ایسا رکھ دیا دل میں مرے سچ کبھی میں بول ہی پائی نہ پورا اس طرف ایک ہلکی سی چبھن احساس کو گھیرے رہی گفتگو میں جب تمہارا ذکر آیا اس طرف صرف آنکھیں کانچ کی باقی بدن پتھر کا ہے لڑکیوں نے کس طرح روپ دھارا اس طرف اے ہوا اے میرے دل کے شہر سے آتی ہوا تجھ کو کیا پیغام دے کر اس نے بھیجا اس طرف کس طرح کے لوگ ہیں یہ کچھ پتا چلتا نہیں کون کتنا اس طرف ہے کون کتنا اس طرف
عشق کرو تو یہ بھی سوچو عرض سوال سے پہلے
عشق کرو تو یہ بھی سوچو عرض سوال سے پہلے ہجر کی پوری رات آتی ہے صبح وصال سے پہلے دل کا کیا ہے دل نے کتنے منظر دیکھے لیکن آنکھیں پاگل ہو جاتی ہیں ایک خیال سے پہلے کس نے ریت اڑائی شب میں آنکھیں کھول کے رکھیں کوئی مثال تو ہونا اس کی مثال سے پہلے کار محبت ایک سفر ہے اس میں آ جاتا ہے ایک زوال آثار سا رستہ باب کمال سے پہلے عشق میں ریشم جیسے وعدوں اور خوابوں کا رستہ جتنا ممکن ہو طے کر لیں گرد ملال سے پہلے