نوشی گیلانی

اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)

25 December 2025

13سپیکرز
239لسنرز

سپیکرز

کریسنٹ کا پیش کردہ کلام

ورثہ

بیٹیاں بھی تو ماؤں جیسی ہوتی ہیں ضبط کے زرد آنچل میں اپنے سارے درد چھپا لیتی ہیں روتے روتے ہنس پڑتی ہیں ہنستے ہنستے دل ہی دل میں رو لیتی ہیں خوشی کی خواہش کرتے کرتے خواب اور خاک میں اٹ جاتی ہیں سو حصوں میں بٹ جاتی ہیں گھر کے دروازے پر بیٹھی امیدوں کے ریشم بنتے ساری عمر گنوا دیتی ہیں میں جو گئے دنوں میں ماں کی خوش فہمی پہ ہنس دیتی تھی اب خود بھی تو عمر کی گرتی دیواروں سے ٹیک لگائے فصل خوشی کی بوتی ہوں اور خوش فہمی کاٹ رہی ہوں جانے کیسی رسم ہے یہ بھی ماں کیوں بیٹی کو ورثے میں اپنا مقدر دے دیتی ہے

— نوشی گیلانی

ہمارے درمیاں عہد شب مہتاب زندہ ہے

ہمارے درمیاں عہد شب مہتاب زندہ ہے ہوا چپکے سے کہتی ہے ابھی اک خواب زندہ ہے یہ کس کی نرم خوشبو ہے مری شب کی حویلی میں یہ کیسا رقص مستی اے دل بے تاب زندہ ہے کہاں وہ سانولی شامیں کہاں وہ ریشمی باتیں مگر اک لمس حیراں کا ابھی زرناب زندہ ہے ابھی تک پانیوں میں سرمئی سائے اترتے ہیں ابھی تک دھڑکنوں میں درد کی مضراب زندہ ہے صراط عشق ہے اور ہجر کی تنہا مسافت ہے وہی ہے تشنگی پھر بھی فریب آب زندہ ہے

— نوشی گیلانی

میرے چارہ گر کوئی چارہ کر

میرے چارہ گر کوئی چارہ کر ‏میرے کوزہ گر کوئی تو ایسا ہنر تو کر ‏مٹی اٹھا میری پاس سے ‏زرا چاہ ملا میری ذات میں ‏اسے دل کے چاک پہ رکھ زرا ‏مجھے ایسی کوئی شکل تُو دے ‏جو تیرے خیال کا روپ ہو ‏چھڑک خاک اپنے نصیب کی ‏کہ رہے ساتھ تیرا میرا سدا ‏مجھے گوندھ پیار کے آب سے ‏⁧ مجھے ڈھال اپنے مزاج میں ‏مجھے روپ ایسا تُو دے کوئی ‏کہ تری نظر میں سماؤں بس ‏میں نہ بھاؤں کبھی کسی اور کو ‏مجھے لمس کے اپنی یوں آنچ دے ‏کہ نہ ٹوٹ پائیں کبھی مورت یہ کہ‏تیری چاہ سے تبدیل ہو ‏میرا رنگ روپ میری ہر ادا ‏اسی روپ میں ڈھل جاۓ بس ‏جو تیرا گمان تیری چاہ ہو ‏میری منزلوں کے راستے ‏تیری انگلیوں کے پور ہوں ‏میری ذات خود میری نہ ہو ‏میری ذات پہ تیرا حق رہے ‏تیرا من جو مجھ سے پھرے کبھی ‏میرا تن امانتِ گور ہو

— کریسنٹ (ماہ نور)