سپیکرز
کریسنٹ کا پیش کردہ کلام
ورثہ
بیٹیاں بھی تو ماؤں جیسی ہوتی ہیں ضبط کے زرد آنچل میں اپنے سارے درد چھپا لیتی ہیں روتے روتے ہنس پڑتی ہیں ہنستے ہنستے دل ہی دل میں رو لیتی ہیں خوشی کی خواہش کرتے کرتے خواب اور خاک میں اٹ جاتی ہیں سو حصوں میں بٹ جاتی ہیں گھر کے دروازے پر بیٹھی امیدوں کے ریشم بنتے ساری عمر گنوا دیتی ہیں میں جو گئے دنوں میں ماں کی خوش فہمی پہ ہنس دیتی تھی اب خود بھی تو عمر کی گرتی دیواروں سے ٹیک لگائے فصل خوشی کی بوتی ہوں اور خوش فہمی کاٹ رہی ہوں جانے کیسی رسم ہے یہ بھی ماں کیوں بیٹی کو ورثے میں اپنا مقدر دے دیتی ہے
ہمارے درمیاں عہد شب مہتاب زندہ ہے
ہمارے درمیاں عہد شب مہتاب زندہ ہے ہوا چپکے سے کہتی ہے ابھی اک خواب زندہ ہے یہ کس کی نرم خوشبو ہے مری شب کی حویلی میں یہ کیسا رقص مستی اے دل بے تاب زندہ ہے کہاں وہ سانولی شامیں کہاں وہ ریشمی باتیں مگر اک لمس حیراں کا ابھی زرناب زندہ ہے ابھی تک پانیوں میں سرمئی سائے اترتے ہیں ابھی تک دھڑکنوں میں درد کی مضراب زندہ ہے صراط عشق ہے اور ہجر کی تنہا مسافت ہے وہی ہے تشنگی پھر بھی فریب آب زندہ ہے
میرے چارہ گر کوئی چارہ کر
میرے چارہ گر کوئی چارہ کر میرے کوزہ گر کوئی تو ایسا ہنر تو کر مٹی اٹھا میری پاس سے زرا چاہ ملا میری ذات میں اسے دل کے چاک پہ رکھ زرا مجھے ایسی کوئی شکل تُو دے جو تیرے خیال کا روپ ہو چھڑک خاک اپنے نصیب کی کہ رہے ساتھ تیرا میرا سدا مجھے گوندھ پیار کے آب سے مجھے ڈھال اپنے مزاج میں مجھے روپ ایسا تُو دے کوئی کہ تری نظر میں سماؤں بس میں نہ بھاؤں کبھی کسی اور کو مجھے لمس کے اپنی یوں آنچ دے کہ نہ ٹوٹ پائیں کبھی مورت یہ کہتیری چاہ سے تبدیل ہو میرا رنگ روپ میری ہر ادا اسی روپ میں ڈھل جاۓ بس جو تیرا گمان تیری چاہ ہو میری منزلوں کے راستے تیری انگلیوں کے پور ہوں میری ذات خود میری نہ ہو میری ذات پہ تیرا حق رہے تیرا من جو مجھ سے پھرے کبھی میرا تن امانتِ گور ہو