نوشی گیلانی

اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا(نوشی گیلانی)

25 December 2025

13سپیکرز
239لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

تتلیاں جگنو سبھی ہوں گے مگر دیکھے گا کون

تتلیاں جگنو سبھی ہوں گے مگر دیکھے گا کون ہم سجا بھی لیں اگر دیوار و در دیکھے گا کون اب تو ہم ہیں جاگنے والے تری خاطر یہاں ہم نہ ہوں گے تو ترے شام و سحر دیکھے گا کون جس کی خاطر ہم سخن سچائی کے رستے چلے جب وہی اس کو نہ دیکھے تو ہنر دیکھے گا کون سب نے اپنی اپنی آنکھوں پر نقابیں ڈال لیں جو لکھا ہے شہر کی دیوار پر دیکھے گا کون بے ستارہ زندگی کے گھر میں اب بھی رات کو اک کرن تیرے خیالوں کی مگر دیکھے گا کون

— نوشی گیلانی

بند ہوتی کتابوں میں اڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیں

بند ہوتی کتابوں میں اڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیں کس کی رسموں کی جلتی ہوئی آگ میں لڑکیاں ڈال دیں خوف کیسا ہے یہ نام اس کا کہیں زیر لب بھی نہیں جس نے ہاتھوں میں میرے ہرے کانچ کی چوڑیاں ڈال دیں ہونٹ پیاسے رہے حوصلے تھک گئے عمر صحرا ہوئی ہم نے پانی کے دھوکے میں پھر ریت پر کشتیاں ڈال دیں موسم ہجر کی کیسی ساعت ہے یہ دل بھی حیران ہے میرے کانوں میں کس نے تری یاد کی بالیاں ڈال دیں

— نوشی گیلانی