سپیکرز
ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام
ہم حد اندمال سے بھی گئے
ہم حد اندمال سے بھی گئے اب فریب خیال سے بھی گئے دل پہ تالا زبان پر پہرا یعنی اب عرض حال سے بھی گئے جام جم کی تلاش لے ڈوبی اپنے جام سفال سے بھی گئے خوف کم مائیگی برا ہو ترا آرزوئے وصال سے بھی گئے شورش زندگی تمام ہوئی گردش ماہ و سال سے بھی گئے یوں مٹے ہم کہ اب زوال نہیں شوق اوج کمال سے بھی گئے ہم نے چاہا تھا تیری چال چلیں ہائے ہم اپنی چال سے بھی گئے حسن فردا خیال و خواب رہا اور ماضی و حال سے بھی گئے ہم تہی دست وقف غم ہیں وہی تنگنائے سوال سے بھی گئے سجدہ بھی عرشؔ ان کو کر دیکھا اس رہ پائمال سے بھی گئے
حصار دل سے ادھر بھی حقیقتیں ہیں بہت
حصار دل سے ادھر بھی حقیقتیں ہیں بہت ترے بغیر بھی جینے کی صورتیں ہیں ہیں ترے غرور کو ہم سے شکایتیں ہیں بجا ہم آدمی ہیں ہمیں پست عادتیں ہیں بہت جو تیری طرز جفا سے ہمارا حال ہوا زباں پہ لائیں یہ اس میں قباحتیں ہیں بہت اگر ہے باعث وحشت تجھے ہمارا جنوں ہمیں بھی تیری ادا سے شکایتیں ہیں بہت غلط کہ ملنے میں ہے فاصلے کا خوف تجھے کہ آج کل تو سفر میں سہولتیں ہیں بہت مجھے تو چھوڑ گیا راہ میں تو ٹھیک ہوا کہ پا شکستہ تھا میں اور مسافتیں ہیں بہت زبان کھول کے اس بزم میں خراب ہوئے سوال ایک تھا لیکن وضاحتیں ہیں بہت کسے سنیں تو کریں کس سے ہم گریز کہ یاں ہر اک زباں پہ غموں کی حکایتیں ہیں بہت ہمیں عذاب قیامت کا کوئی خوف نہیں کہ اس سے بڑھ کے جہاں میں قیامتیں ہیں بہت ملے یہ لوگ تو کیوں اور لوگ کیوں نہ ملے جواب کوئی نہیں ہے بجھارتیں ہیں بہت نہیں ہے آج کی تنہائیوں سے ہول ہمیں کہ دل پہ نقش جوانی کی صورتیں ہیں بہت کس احتیاط سے اے عرشؔ اس کو صرف کریں متاع عمر ہے کم اور چاہتیں ہیں بہت