عرش صدیقی

اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی

21 January 2026

17سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

یادرفتگان کا پیش کردہ کلام

حیراں ہوں کہ یہ کون سا دستور وفا ہے

حیراں ہوں کہ یہ کون سا دستور وفا ہے تو مثل رگ جاں ہے تو کیوں مجھ سے جدا ہے تو اہل نظر ہے تو نہیں تجھ کو خبر کیوں پہلو میں ترے کوئی زمانے سے کھڑا ہے لکھا ہے مرا نام سمندر پہ ہوا نے اور دونو کی فطرت میں سکوں ہے نہ وفا ہے میں شہر و بیاباں میں تجھے ڈھونڈ چکا ہوں بے درد تو کس حجلۂ پنہاں میں چھپا ہے ہم رکھتے ہیں دعویٰ کہ ہے قابو ہمیں دل پر تو سامنے آ جائے تو یہ بات جدا ہے میں دوزخ‌ جاں میں بھی رہا محو تگ و تاز اے خالق افلاک تجھے تو یہ پتا ہے غم ہے کہ مسلسل اسی شدت سے ہے جاری یوں کہنے کو اس عمر کا ہر لمحہ نیا ہے ہر سمت ہوا تیز فضا تا بہ افق تنگ دل ذرۂ صحرا ہے بگولوں میں گھرا ہے کیوں جاگے ہوئے شہر میں تنہا ہے ہر اک شخص یہ روشنی کیسی ہے کہ سایہ بھی جدا ہے اے داور محشر تجھے خود تیری قسم ہے انصاف سے کہہ دل کبھی تیرا بھی پھٹا ہے محسوس کیا ہے کبھی تو نے بھی وہ خنجر غم بن کے جو ہر شخص کے سینے میں گڑا ہے ٹھہرائے اسے عرشؔ کوئی کیسے جفا کیش جو مجھ سے الگ رہ کے بھی ہم راہ چلا ہے

— عرش صدیقی

ہم گھر ہی میں رہتے تو تماشا تو نہ ہوتے

ہم گھر ہی میں رہتے تو تماشا تو نہ ہوتے یوں کشتۂ بیداد زمانہ تو نہ ہوتے غم دل پہ شکست طلب جاں کا ہے بھاری مٹ جاتے تگ و تاز میں پسپا تو نہ ہوتے کھو جاتے کسی بادیۂ ہفت بلا میں خلقت میں مگر راندۂ دنیا تو نہ ہوتے دنیا سے جو رکھتے کبھی دنیا سے روابط اپنے ہی زمانے میں یوں تنہا تو نہ ہوتے ہو رہتے حرم کے تو جئے جاتے سکوں سے بدنام رہ دیر و کلیسا تو نہ ہوتے آوارہ مزاجی کی سزا خوب تھی لیکن پا بستۂ خاک لب دریا تو نہ ہوتے جیتے ہیں تو سب کھل گئے اوصاف جہاں پر مر جاتے تو اچھا تھا کہ رسوا تو نہ ہوتے اونچا جو اٹھا رکھتے علم اپنی انا کا اعلیٰ نہ سہی عرش پہ ادنیٰ تو نہ ہوتے

— عرش صدیقی