عرش صدیقی

اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی

21 January 2026

17سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

شہزاد کا پیش کردہ کلام

پھر ہنر مندوں کے گھر سے بے ہنر جاتا ہوں میں

پھر ہنر مندوں کے گھر سے بے ہنر جاتا ہوں میں تم خبر بے زار ہو اہل نظر جاتا ہوں میں جیب میں رکھ لی ہیں کیوں تم نے زبانیں کاٹ کر کس سے اب یہ اجنبی پوچھے کدھر جاتا ہوں میں ہاں میں سایہ ہوں کسی شے کا مگر یہ بھی تو دیکھ گر تعاقب میں نہ ہو سورج تو مر جاتا ہوں میں ہاتھ آنکھوں سے اٹھا کر دیکھ مجھ سے کچھ نہ پوچھ کیوں افق پر پھیلتی صبحوں سے ڈر جاتا ہوں میں بس یوں ہی تنہا رہوں گا اس سفر میں عمر بھر جس طرف کوئی نہیں جاتا ادھر جاتا ہوں میں خوف کی یہ انتہا صدیوں سے آنکھیں بند ہیں شوق کی یہ ابلہی بے بال و پر جاتا ہوں میں عرشؔ رسموں کی پنہ گاہیں بھی اب سر پر نہیں اور وحشی راستوں پر بے سپر جاتا ہوں میں

— عرش صدیقی

زنجیر سے اٹھتی ہے صدا سہمی ہوئی سی

زنجیر سے اٹھتی ہے صدا سہمی ہوئی سی جاری ہے ابھی گردش پا سہمی ہوئی سی دل ٹوٹ تو جاتا ہے پہ گریہ نہیں کرتا کیا ڈر ہے کہ رہتی ہے وفا سہمی ہوئی سی اٹھ جائے نظر بھول کے گر جانب افلاک ہونٹوں سے نکلتی ہے دعا سہمی ہوئی سی ہاں ہنس لو رفیقو کبھی دیکھی نہیں تم نے نمناک نگاہوں میں حیا سہمی ہوئی سی تقصیر کوئی ہو تو سزا عمر کا رونا مٹ جائیں وفا میں تو جزا سہمی ہوئی سی ہاں ہم نے بھی پایا ہے صلہ اپنے ہنر کا لفظوں کے لفافوں میں بقا سہمی ہوئی سی ہر لقمے پہ کھٹکا ہے کہیں یہ بھی نہ چھن جائے معدے میں اترتی ہے غذا سہمی ہوئی سی اٹھتی تو ہے سو بار پہ مجھ تک نہیں آتی اس شہر میں چلتی ہے ہوا سہمی ہوئی سی ہے عرشؔ وہاں آج محیط ایک خموشی جس راہ سے گزری تھی قضا سہمی ہوئی سی

— عرش صدیقی