سپیکرز
شہزاد کا پیش کردہ کلام
پھر ہنر مندوں کے گھر سے بے ہنر جاتا ہوں میں
پھر ہنر مندوں کے گھر سے بے ہنر جاتا ہوں میں تم خبر بے زار ہو اہل نظر جاتا ہوں میں جیب میں رکھ لی ہیں کیوں تم نے زبانیں کاٹ کر کس سے اب یہ اجنبی پوچھے کدھر جاتا ہوں میں ہاں میں سایہ ہوں کسی شے کا مگر یہ بھی تو دیکھ گر تعاقب میں نہ ہو سورج تو مر جاتا ہوں میں ہاتھ آنکھوں سے اٹھا کر دیکھ مجھ سے کچھ نہ پوچھ کیوں افق پر پھیلتی صبحوں سے ڈر جاتا ہوں میں بس یوں ہی تنہا رہوں گا اس سفر میں عمر بھر جس طرف کوئی نہیں جاتا ادھر جاتا ہوں میں خوف کی یہ انتہا صدیوں سے آنکھیں بند ہیں شوق کی یہ ابلہی بے بال و پر جاتا ہوں میں عرشؔ رسموں کی پنہ گاہیں بھی اب سر پر نہیں اور وحشی راستوں پر بے سپر جاتا ہوں میں
زنجیر سے اٹھتی ہے صدا سہمی ہوئی سی
زنجیر سے اٹھتی ہے صدا سہمی ہوئی سی جاری ہے ابھی گردش پا سہمی ہوئی سی دل ٹوٹ تو جاتا ہے پہ گریہ نہیں کرتا کیا ڈر ہے کہ رہتی ہے وفا سہمی ہوئی سی اٹھ جائے نظر بھول کے گر جانب افلاک ہونٹوں سے نکلتی ہے دعا سہمی ہوئی سی ہاں ہنس لو رفیقو کبھی دیکھی نہیں تم نے نمناک نگاہوں میں حیا سہمی ہوئی سی تقصیر کوئی ہو تو سزا عمر کا رونا مٹ جائیں وفا میں تو جزا سہمی ہوئی سی ہاں ہم نے بھی پایا ہے صلہ اپنے ہنر کا لفظوں کے لفافوں میں بقا سہمی ہوئی سی ہر لقمے پہ کھٹکا ہے کہیں یہ بھی نہ چھن جائے معدے میں اترتی ہے غذا سہمی ہوئی سی اٹھتی تو ہے سو بار پہ مجھ تک نہیں آتی اس شہر میں چلتی ہے ہوا سہمی ہوئی سی ہے عرشؔ وہاں آج محیط ایک خموشی جس راہ سے گزری تھی قضا سہمی ہوئی سی