عرش صدیقی

اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی

21 January 2026

17سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

ایم سعید کا پیش کردہ کلام

دل کہ آرائش عالم کا تماشا دیکھے

دل کہ آرائش عالم کا تماشا دیکھے گر کبھی خود پہ نظر جائے تو صحرا دیکھے آنکھ وہ آنکھ جو ہر قطرے میں دریا دیکھے تو مگر سامنے آ جائے تو پھر کیا دیکھے خواب میں ہو تو یہ دل دیکھے تری دید کے خواب خواب سے جاگے تو اک خواب سی دنیا دیکھے جو سمجھتا ہے کہ کھل جاتا ہے فریاد سے بخت سوئے افلاک کبھی ہاتھ وہ پھیلا دیکھے ابتلا میں ہیں سبھی راہ رو منزل شوق کس کو فرصت کہ مرے پاؤں کا کانٹا دیکھے عرشؔ اگر لفظ و معانی کے ہو تم پیغمبر ایک تصویر بنا جاؤ کہ دنیا دیکھے

— عرش صدیقی