عرش صدیقی

اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی

21 January 2026

17سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام

میں عالم امکاں میں جسے ڈھونڈ رہا ہوں

میں عالم امکاں میں جسے ڈھونڈ رہا ہوں وہ پوچھ رہا ہے کہ کسے ڈھونڈ رہا ہوں ماضی کے بیاباں میں جو گم ہو گیا مجھ سے میں حال کے جنگل میں اسے ڈھونڈ رہا ہوں گو پیش نظر ایک تماشہ ہے ولیکن اے وجہ تماشہ میں تجھے ڈھونڈ رہا ہوں تو ہاتھ جو آتا نہیں اس کا ہے سبب کیا شاید میں تجھے تجھ سے پرے ڈھونڈ رہا ہوں چھینا تھا جسے صبح گریزاں کی چمک نے اس لمحے کو اب شام ڈھلے ڈھونڈ رہا ہوں ہر اک سے جو کہتا ہوں کہیں عرشؔ کو ڈھونڈو کیوں اپنے بہانے میں اسے ڈھونڈ رہا ہوں

— عرش صدیقی

آسیب

تری رہ گزر کو میں یوں چھوڑ آیا کہ اک بے نوا کی تباہی کا تجھ پر نہ الزام آئے میں سمجھا تھا یوں شہر کی رونقوں میں الجھ کر تری بے نیازی کے آسیب سے بچ رہوں گا مگر جب کبھی میں سر شام کیفے میں پہنچا تو دیکھا کہ تو حال کے ایک کونے میں اک میز پر سر جھکائے نہ جانے کسے نامۂ مشکبو لکھ رہا ہے کبھی مال پر میں نے ٹیکسی جو روکی تو دیکھا کہ ٹیکسی میں پہلے سے اک آشنا چہرۂ دل نشیں کی ضیا ہے ہمیشہ یہ تو تھا کبھی شام کو میں کسی سنیما حال میں جا کے بیٹھا تو دیکھا کہ پہلو میں تو ہے کئی بار میں نے تجھے گلشن فاطمہؓ کی ہری گھاس پر بیٹھے دیکھا کئی بار بازار میں تو مرے ساتھ چلتا رہا دیر تک اور کئی بار تو میرے گھر تک مرے ساتھ آیا اور اب اپنے تاریک کمرے میں بیٹھا ہوا سوچتا ہوں تری رہ گزر کو میں کیوں چھوڑ آیا

— عرش صدیقی