سپیکرز
راجا اکرام قمر کا پیش کردہ کلام
میں عالم امکاں میں جسے ڈھونڈ رہا ہوں
میں عالم امکاں میں جسے ڈھونڈ رہا ہوں وہ پوچھ رہا ہے کہ کسے ڈھونڈ رہا ہوں ماضی کے بیاباں میں جو گم ہو گیا مجھ سے میں حال کے جنگل میں اسے ڈھونڈ رہا ہوں گو پیش نظر ایک تماشہ ہے ولیکن اے وجہ تماشہ میں تجھے ڈھونڈ رہا ہوں تو ہاتھ جو آتا نہیں اس کا ہے سبب کیا شاید میں تجھے تجھ سے پرے ڈھونڈ رہا ہوں چھینا تھا جسے صبح گریزاں کی چمک نے اس لمحے کو اب شام ڈھلے ڈھونڈ رہا ہوں ہر اک سے جو کہتا ہوں کہیں عرشؔ کو ڈھونڈو کیوں اپنے بہانے میں اسے ڈھونڈ رہا ہوں
آسیب
تری رہ گزر کو میں یوں چھوڑ آیا کہ اک بے نوا کی تباہی کا تجھ پر نہ الزام آئے میں سمجھا تھا یوں شہر کی رونقوں میں الجھ کر تری بے نیازی کے آسیب سے بچ رہوں گا مگر جب کبھی میں سر شام کیفے میں پہنچا تو دیکھا کہ تو حال کے ایک کونے میں اک میز پر سر جھکائے نہ جانے کسے نامۂ مشکبو لکھ رہا ہے کبھی مال پر میں نے ٹیکسی جو روکی تو دیکھا کہ ٹیکسی میں پہلے سے اک آشنا چہرۂ دل نشیں کی ضیا ہے ہمیشہ یہ تو تھا کبھی شام کو میں کسی سنیما حال میں جا کے بیٹھا تو دیکھا کہ پہلو میں تو ہے کئی بار میں نے تجھے گلشن فاطمہؓ کی ہری گھاس پر بیٹھے دیکھا کئی بار بازار میں تو مرے ساتھ چلتا رہا دیر تک اور کئی بار تو میرے گھر تک مرے ساتھ آیا اور اب اپنے تاریک کمرے میں بیٹھا ہوا سوچتا ہوں تری رہ گزر کو میں کیوں چھوڑ آیا