عرش صدیقی

اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی

21 January 2026

17سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

کریسنٹ کا پیش کردہ کلام

بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوا

بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوا زہر وفا ہے گھر کی فضا میں گھلا ہوا خود ان کے پاس جاؤں نہ ان کو بلاؤں پاس پایا ہے وہ مزاج کہ جینا بلا ہوا اپنی زباں کو آج وہ تاثیر ہے نصیب جس کو خدائے حسن کہا وہ خدا ہوا اس پر غلط ہے عشق میں الزام دشمنی قاتل ہے میرے حجلۂ جاں میں چھپا ہوا جاں ہے تو فکر عشرت بزم جہاں بھی ہے کب دل سے درد عالم امکاں جدا ہوا ہیں جسم و جاں بہم یہ مگر کس کو ہے خبر کس کس جگہ سے دامن دل ہے سلا ہوا ہے راہوار شوق پہ آسیب بے دلی رکھا ہے کب سے سامنے ساغر بھرا ہوا حاصل ہے جس کو عرشؔ فضاؤں پہ اختیار وہ دل کے ساتھ کھیل رہا ہے تو کیا ہوا

— عرش صدیقی