عرش صدیقی

اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی

21 January 2026

17سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

زاہدحسین کا پیش کردہ کلام

پھر اسی شہر کا فسانہ چھیڑ

پھر اسی شہر کا فسانہ چھیڑ مطربہ طرز عاشقانہ چھیڑ ساز دل سے اٹھا تھا جو اک بار پھر وہی راگ والہانہ چھیڑ گھر ہے تاریک یورش غم سے آج اک آتشیں ترانہ چھیڑ پھر جہاں دل کشی سے ہے محروم زلف ہستی کو مثل شانہ چھیڑ بزم خوف فنا سے ہے بے دم کچھ بہ انداز جاودانہ چھیڑ آج ہر شے سے بد گماں ہیں ہم مت ہمیں اے غم زمانہ چھیڑ اے غم یار ہم ہیں خاکستر اور مت اے رفیق خانہ چھیڑ عرشؔ تھی ہر سکوں کی جو رہزن اس قیامت کا پھر فسانہ چھیڑ

— عرش صدیقی

مانوس ہو گئے ہیں اندھے پرانے گھر سے

مانوس ہو گئے ہیں اندھے پرانے گھر سے باہر نہیں نکلتے ہم روشنی کے ڈر سے سائے کی آرزو میں لپٹے ہوئے ہیں ہم سب سنسان راستے میں آتش زدہ شجر سے ہم خاک ہو کے بھی ہر موج ہوا سے الجھے یعنی تری وفا کا سودا گیا نہ سر سے کیا کیا نہ گل کھلیں گے کیا کیا نہ جشن ہوں گے اس کشت آرزو میں بادل کبھی جو برسے تیرے حضور تھے ہم اپنی نظر سے اوجھل خود کو بھی آج دیکھا گر کر تری نظر سے اب تک ہمیں گماں ہے صحرا پہ گلستاں کا اک بار بے ارادہ گزرا تھا وہ ادھر سے کیوں مطمئن کھڑے ہو آسودگان ساحل دریا کا زور دیکھو گہرائی میں اتر کے دل کا سکوں لٹا تو سر کیوں رہا سلامت کیوں زندہ لوٹ آئے ہم عرشؔ اس کے در سے

— عرش صدیقی