سپیکرز
زاہدحسین کا پیش کردہ کلام
پھر اسی شہر کا فسانہ چھیڑ
پھر اسی شہر کا فسانہ چھیڑ مطربہ طرز عاشقانہ چھیڑ ساز دل سے اٹھا تھا جو اک بار پھر وہی راگ والہانہ چھیڑ گھر ہے تاریک یورش غم سے آج اک آتشیں ترانہ چھیڑ پھر جہاں دل کشی سے ہے محروم زلف ہستی کو مثل شانہ چھیڑ بزم خوف فنا سے ہے بے دم کچھ بہ انداز جاودانہ چھیڑ آج ہر شے سے بد گماں ہیں ہم مت ہمیں اے غم زمانہ چھیڑ اے غم یار ہم ہیں خاکستر اور مت اے رفیق خانہ چھیڑ عرشؔ تھی ہر سکوں کی جو رہزن اس قیامت کا پھر فسانہ چھیڑ
مانوس ہو گئے ہیں اندھے پرانے گھر سے
مانوس ہو گئے ہیں اندھے پرانے گھر سے باہر نہیں نکلتے ہم روشنی کے ڈر سے سائے کی آرزو میں لپٹے ہوئے ہیں ہم سب سنسان راستے میں آتش زدہ شجر سے ہم خاک ہو کے بھی ہر موج ہوا سے الجھے یعنی تری وفا کا سودا گیا نہ سر سے کیا کیا نہ گل کھلیں گے کیا کیا نہ جشن ہوں گے اس کشت آرزو میں بادل کبھی جو برسے تیرے حضور تھے ہم اپنی نظر سے اوجھل خود کو بھی آج دیکھا گر کر تری نظر سے اب تک ہمیں گماں ہے صحرا پہ گلستاں کا اک بار بے ارادہ گزرا تھا وہ ادھر سے کیوں مطمئن کھڑے ہو آسودگان ساحل دریا کا زور دیکھو گہرائی میں اتر کے دل کا سکوں لٹا تو سر کیوں رہا سلامت کیوں زندہ لوٹ آئے ہم عرشؔ اس کے در سے