سپیکرز
امل خان کا پیش کردہ کلام
دروازہ ترے شہر کا وا چاہئے مجھ کو
دروازہ ترے شہر کا وا چاہئے مجھ کو جینا ہے مجھے تازہ ہوا چاہئے مجھ کو آزار بھی تھے سب سے زیادہ مری جاں پر الطاف بھی اوروں سے سوا چاہئے مجھ کو وہ گرم ہوائیں ہیں کہ کھلتی نہیں آنکھیں صحرا میں ہوں بادل کی ردا چاہئے مجھ کو لب سی کے مرے تو نے دیے فیصلے سارے اک بار تو بے درد سنا چاہئے مجھ کو سب ختم ہوئے چاہ کے اور خبط کے قصے اب پوچھنے آئے ہو کہ کیا چاہئے مجھ کو ہاں چھوٹا مرے ہاتھ سے اقرار کا دامن ہاں جرم ضعیفی کی سزا چاہئے مجھ کو محبوس ہے گنبد میں کبوتر مری جاں کا اڑنے کو فلک بوس فضا چاہئے مجھ کو سمتوں کے طلسمات میں گم ہے مری تائید قبلہ تو ہے اک قبلہ نما چاہئے مجھ کو میں پیروی اہل سیاست نہیں کرتا اک راستہ ان سب سے جدا چاہئے مجھ کو وہ شور تھا محفل میں کہ چلا اٹھا واعظؔ اک جام مئے ہوش ربا چاہئے مجھ کو تقصیر نہیں عرشؔ کوئی سامنے پھر بھی جیتا ہوں تو جینے کی سزا چاہئے مجھ کو
روشنی بن کے ستاروں میں رواں رہتے ہیں
روشنی بن کے ستاروں میں رواں رہتے ہیں جسم افلاک میں ہم صورت جاں رہتے ہیں ہیں دل دہر میں ہم صورت امید نہاں مثل ایماں رخ ہستی پہ عیاں رہتے ہیں جو نہ ڈھونڈو تو ہمارا کوئی مسکن ہی نہیں اور دیکھو تو قریب رگ جاں رہتے ہیں ہر نفس کرتے ہیں اک طرفہ تماشا پیدا ہم سر دار بھی تزئیں جہاں رہتے ہیں اور بھی اہل نظر ہیں کبھی دیکھو تو سہی ہم بھی اس شہر میں اے کم نظراں رہتے ہیں دل کی دھڑکن سے ملا ان کا پتہ کچھ ہم کو کس کو معلوم تھا ورنہ وہ کہاں رہتے ہیں وسعت دشت نہیں راس چمن زادوں کو ہم ترے شہر کی جانب نگراں رہتے ہیں اشک گرتے ہیں تو کچھ دل کو سکوں ملتا ہے ہائے وہ لوگ جو محروم فغاں رہتے ہیں زندگی بھر کا ہے احباب سے اس دشت میں ساتھ مثل جاں رہتے ہیں ہم عرشؔ جہاں رہتے ہیں
خیال و خواب کے سائے میں ہم رہے برسوں
خیال و خواب کے سائے میں ہم رہے برسوں بڑھے نہ آگے در کوئے یار سے برسوں چلی ہے اہل جنوں کی خدائے کعبہ سے کہ اس دیار میں بھٹکے ہیں دل جلے برسوں تیرے بغیر وہ بدلی زیست کہ ہم اسیر حلقہ زنجیر غم رہے برسوں بساطِ غم نہ اٹھائی حیات تیرہ نے کچھ ایسے دور ہوئے ہم نہ مل سکے برسوں گزر بہار کا ہوتا رہا ادھر لیکن تہی حیات سے دامان گل رہے برسوں رہے اک عمر اسیر خیال سود و زیان بڑھا کئے من و منزل میں فاصلے برسوں رہے جنوں ہی جہاں رہنمائے ہوش و خرد میرے قریب نہ آئے وہ مرحلے برسوں کبھی تو ان کا گزر ہو اس انتظار میں ہم چراغ راہ بنے اور جلا کئے برسوں انہی کے ساتھ گئی عرش روح بزم طرب کٹے کٹے سے نظر آئے میکدے برسوں