سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
بس ایک ہی کیفیت دل صبح و مسا ہے
بس ایک ہی کیفیت دل صبح و مسا ہے ہر لمحہ مری عمر کا زنجیر بہ پا ہے میں شہر کو کہتا ہوں بیاباں کہ یہاں بھی سایہ تری دیوار کا کب سر پہ پڑا ہے ہے وقت کہ کہتا ہے رکوں گا نہ میں اک پل تو ہے کہ ابھی بات مری تول رہا ہے میں بزم سے خاکستر دل لے کے چلا ہوں اور سامنے تنہائی کے صحرا کی ہوا ہے آواز کا تیشہ ہے نہ خاموش تکلم تالا جو زباں پر تھا وہ اب دل پہ پڑا ہے میں ساتھ لئے پھرتا ہوں سامان ہلاکت رگ رگ میں مری زہر وفا دوڑ رہا ہے کیا کیا ہیں تمنائیں دل خاک بسر میں یہ قافلہ ویرانے میں کیوں ٹھہرا ہوا ہے
گلشن کا ثنا خواں ہوں بیاباں میں پڑا ہوں
گلشن کا ثنا خواں ہوں بیاباں میں پڑا ہوں طائر ہوں مگر گوشۂ زنداں میں پڑا ہوں ہوں منتظر قافلۂ مصر تمنا یوسف ہوں ابھی چاہ بیاباں میں پڑا ہوں ملتا نہیں بازار سے پیراہن یوسف یعقوب ہوں تاریکئ کنعاں میں پڑا ہوں آنکھوں پہ ہے اک منظر کم دیدہ کا پردہ میں کب سے تری یاد کے زنداں میں پڑا ہوں تو ہے کہ مجھے دور سے کرتا ہے اشارے میں ہوں کہ رہ حسن گریزاں میں پڑا ہوں مانا کہ نہیں عرشؔ کوئی گوش بر آواز کیا کم ہے کہ میں کوچۂ جاناں میں پڑا ہوں