سپیکرز
ایمان
ہوسٹ
ثنا سوئٹ
کو ہوسٹ
نور مائیر
کو ہوسٹ
افتخار احمد
آئیڈیا
امل خان
انتظار حسین
ایم سعید
حسین بلوچ
حماد ابراہیم
راجا اکرام قمر
زاہدحسین
سجاد رضا
سید جینٹلمین
شہزاد
فائیٹر
کریسنٹ
ملک
ممتاز
نایاب
ندیم بخاری
یادرفتگان
ممتاز کا پیش کردہ کلام
تھا بہت بے درد لیکن حوصلہ دیتا رہا
تھا بہت بے درد لیکن حوصلہ دیتا رہا وہ مجھے ہر شب نئے گھر کا پتہ دیتا رہا میں اسے ڈھونڈا کیا جسموں کی جنت میں مگر وہ مجھے خوابوں میں ملنے کی سزا دیتا رہا کب اسے رکنے کی فرصت تھی غرور حسن میں میں تعاقب میں رواں تھا میں صدا دیتا رہا جل رہا تھا خود ہی بے مائیگی کی آگ میں میں اسی دامن سے شعلوں کو ہوا دیتا رہا گرچہ مہلک تھا مگر انصاف کی امید پر مدتوں اک زخم قاتل کو صدا دیتا رہا میں تو اس کی جستجو میں تھا گزر آیا مگر دشت ماضی دیر تک بوئے وفا دیتا رہا سب سے پیچھے رہ گیا ہوں عرشؔ یوں اس دشت میں میں سفر میں ہر کسی کو راستہ دیتا رہا