عرش صدیقی

اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی

21 January 2026

17سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

ممتاز کا پیش کردہ کلام

تھا بہت بے درد لیکن حوصلہ دیتا رہا

تھا بہت بے درد لیکن حوصلہ دیتا رہا وہ مجھے ہر شب نئے گھر کا پتہ دیتا رہا میں اسے ڈھونڈا کیا جسموں کی جنت میں مگر وہ مجھے خوابوں میں ملنے کی سزا دیتا رہا کب اسے رکنے کی فرصت تھی غرور حسن میں میں تعاقب میں رواں تھا میں صدا دیتا رہا جل رہا تھا خود ہی بے مائیگی کی آگ میں میں اسی دامن سے شعلوں کو ہوا دیتا رہا گرچہ مہلک تھا مگر انصاف کی امید پر مدتوں اک زخم قاتل کو صدا دیتا رہا میں تو اس کی جستجو میں تھا گزر آیا مگر دشت ماضی دیر تک بوئے وفا دیتا رہا سب سے پیچھے رہ گیا ہوں عرشؔ یوں اس دشت میں میں سفر میں ہر کسی کو راستہ دیتا رہا

— عرش صدیقی