سپیکرز
سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام
آنکھوں میں کہیں اس کی بھی طوفاں تو نہیں تھا
آنکھوں میں کہیں اس کی بھی طوفاں تو نہیں تھا وہ مجھ سے جدا ہو کے پشیماں تو نہیں تھا کیوں اس نے نہ کی مجھ سے سر بزم کوئی بات میں سنگ ملامت سے گریزاں تو نہیں تھا کیوں راستہ دیکھا کیا اس کا میں سر شام بے درد کا مجھ سے کوئی پیماں تو نہیں تھا تھی آگ بھی تیری ہی طرح ہوش کی دشمن ورنہ مجھے جل مرنے کا ارماں تو نہیں تھا تھا دل بھی کبھی شہر تمنا میں مماثل یہ قریہ ہمیشہ سے بیاباں تو نہیں تھا کیوں اس نے مجھے عظمت قرآں کی قسم دی وہ رہزن ایمان مسلماں تو نہیں تھا کیوں مجھ سے توقع تھی اسے جاہ و حشم کی میں بندۂ نادار سلیماں تو نہیں تھا طوفان الم کیوں مجھے ساحل پہ اتارا میں شور تلاطم سے ہراساں تو نہیں تھا شب بھر مری پلکوں میں دمکتے رہے تارے کل رات یہاں جشن چراغاں تو نہیں تھا کہتے ہیں کہ ہے عرشؔ نگوں پائے نبی پر ایسا وہ کوئی صاحب ایماں تو نہیں تھا
یوں نہ کوئی تری محفل میں پریشاں ہو جائے
یوں نہ کوئی تری محفل میں پریشاں ہو جائے جیسے آواز صبا دشت میں حیراں ہو جائے منتظر ہیں مری آہٹ کی بلائیں کتنی ایک مشکل تو نہیں ہے کہ جو آساں ہو جائے چاک دامن ہی زمانے سے نہیں ہوتا رفو اور اگر سینہ کبھی چاک گریباں ہو جائے پیچ در پیچ ہے یوں سلسلۂ زلف حیات ہاتھ لگتے ہی جو کچھ اور بھی پیچاں ہو جائے داغ دل جلنے لگے بجھ گئی ہر شمع طرب یوں ہے تو یوں ہی سہی گھر میں چراغاں ہو جائے مجھ پہ قدغن ہے کہ میں بزم میں خاموش رہوں اور خموشی ہی جو رسوائی کا ساماں ہو جائے نشتر شوق کے ہاتھوں گل صد برگ ہے دل خوب ہو اب جو یہ نذر دم طوفاں ہو جائے کیوں نہ پھر جلنے لگیں رشک سے ویرانہ و دشت شہر جب دل کی نگاہوں میں بیاباں ہو جائے دل کو سودا ہے رہے رنگ شفق پیش نظر غم کو اک طور تو بہلانے کا ساماں ہو جائے روشنی شام کی سن پائے نہ آوازۂ شب مہر زرتاب کا آفاق سے پیماں ہو جائے بات اس آنکھ میں پوشیدہ ہے وہ عرشؔ کہ جو لب سے نکلے تو مرے سینے پہ پیکاں ہو جائے