عرش صدیقی

اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی

21 January 2026

17سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

سید جینٹلمین کا پیش کردہ کلام

آنکھوں میں کہیں اس کی بھی طوفاں تو نہیں تھا

آنکھوں میں کہیں اس کی بھی طوفاں تو نہیں تھا وہ مجھ سے جدا ہو کے پشیماں تو نہیں تھا کیوں اس نے نہ کی مجھ سے سر بزم کوئی بات میں سنگ ملامت سے گریزاں تو نہیں تھا کیوں راستہ دیکھا کیا اس کا میں سر شام بے درد کا مجھ سے کوئی پیماں تو نہیں تھا تھی آگ بھی تیری ہی طرح ہوش کی دشمن ورنہ مجھے جل مرنے کا ارماں تو نہیں تھا تھا دل بھی کبھی شہر تمنا میں مماثل یہ قریہ ہمیشہ سے بیاباں تو نہیں تھا کیوں اس نے مجھے عظمت قرآں کی قسم دی وہ رہزن ایمان مسلماں تو نہیں تھا کیوں مجھ سے توقع تھی اسے جاہ و حشم کی میں بندۂ نادار سلیماں تو نہیں تھا طوفان الم کیوں مجھے ساحل پہ اتارا میں شور تلاطم سے ہراساں تو نہیں تھا شب بھر مری پلکوں میں دمکتے رہے تارے کل رات یہاں جشن چراغاں تو نہیں تھا کہتے ہیں کہ ہے عرشؔ نگوں پائے نبی پر ایسا وہ کوئی صاحب ایماں تو نہیں تھا

— عرش صدیقی

یوں نہ کوئی تری محفل میں پریشاں ہو جائے

یوں نہ کوئی تری محفل میں پریشاں ہو جائے جیسے آواز صبا دشت میں حیراں ہو جائے منتظر ہیں مری آہٹ کی بلائیں کتنی ایک مشکل تو نہیں ہے کہ جو آساں ہو جائے چاک دامن ہی زمانے سے نہیں ہوتا رفو اور اگر سینہ کبھی چاک گریباں ہو جائے پیچ در پیچ ہے یوں سلسلۂ زلف حیات ہاتھ لگتے ہی جو کچھ اور بھی پیچاں ہو جائے داغ دل جلنے لگے بجھ گئی ہر شمع طرب یوں ہے تو یوں ہی سہی گھر میں چراغاں ہو جائے مجھ پہ قدغن ہے کہ میں بزم میں خاموش رہوں اور خموشی ہی جو رسوائی کا ساماں ہو جائے نشتر شوق کے ہاتھوں گل صد برگ ہے دل خوب ہو اب جو یہ نذر دم‌ طوفاں ہو جائے کیوں نہ پھر جلنے لگیں رشک سے ویرانہ و دشت شہر جب دل کی نگاہوں میں بیاباں ہو جائے دل کو سودا ہے رہے رنگ شفق پیش نظر غم کو اک طور تو بہلانے کا ساماں ہو جائے روشنی شام کی سن پائے نہ آوازۂ شب مہر زرتاب کا آفاق سے پیماں ہو جائے بات اس آنکھ میں پوشیدہ ہے وہ عرشؔ کہ جو لب سے نکلے تو مرے سینے پہ پیکاں ہو جائے

— عرش صدیقی