عرش صدیقی

اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی

21 January 2026

17سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

زندگی ہونے کا دکھ سہنے میں ہے

زندگی ہونے کا دکھ سہنے میں ہے زور دریا کا فقط بہنے میں ہے رک گئے تو دیکھنے آئیں گے لوگ عافیت اب گھومتے رہنے میں ہے کہہ رہے ہیں لوگ اس سے بات کر جیسے وہ ظالم مرے کہنے میں ہے چھو لیا تھا درد کی زنجیر کو وہ بھی اب شامل مرے کہنے میں ہے عرشؔ وہ اپنی خدائی میں کہاں بات جو اس کو خدا کہنے میں ہے

— عرش صدیقی