عرش صدیقی

اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی

21 January 2026

17سپیکرز
290لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

درد کو ہم زندگی کا کیف و کم کہتے رہے

درد کو ہم زندگی کا کیف و کم کہتے رہے خامشی کے ساز پر روداد غم کہتے رہے گوش بر آواز پوری بزم میں کوئی نہ تھا داستان آرزو کہنے کو ہم کہتے رہے انتہائے یاس میں چلتے رہے بے مدعا دیکھنے والے ہمیں ثابت قدم کہتے رہے دل فریب زندگی میں بے طرح الجھا رہا عشق کو آزاد پتھر کو صنم کہتے رہے کم سوادوں کو مسیحا ناخداؤں کو خدا بود کو نابود ہستی کو عدم کہتے رہے اپنے خوں سے داستان غم رقم کرتے رہے لوح دل کو نوک خنجر کو قلم کہتے رہے آرزو کے کتنے بت خانے تھے اس دل میں نہاں عرشؔ جس دل کو سبھی طاق حرم کہتے رہے

— عرش صدیقی

کیا ساتھ ترا دوں کہ میں اک موج ہوا ہوں

کیا ساتھ ترا دوں کہ میں اک موج ہوا ہوں بس ایک نفس عرض تمنا کو رکا ہوں رہتا ہوں بگولوں کی طرح رقص میں بے تاب اے ہم نفسو میں دل صحرا سے اٹھا ہوں قطرہ ہوں میں دریا میں مجھے کچھ نہیں معلوم ہمراہ مرے کون ہے میں کس سے جدا ہوں اک لمحہ ٹھہر مجھ کو بھی ہمراہ لیے چل اے لیلیٰ ہستی ترا نقش کف پا ہوں اے ضبط نظر دے مرے ایماں کی گواہی تو ہی تو سمجھتا ہے کہ میں کون ہوں کیا ہوں چاہے بھی تو وہ مجھ سے جدا ہو نہیں سکتا وہ ہے مری زنجیر تو میں اس کی صدا ہوں میں عرش نشیں بھی ہوں ترے گھر کا مکیں بھی میں نکہت ایمان ہوں میں بوئے وفا ہوں

— عرش صدیقی