سپیکرز
ندیم بخاری کا پیش کردہ کلام
یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہے
یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہے بات ہوتی ہے مگر بات نہیں ہوتی ہے باریابی کا برا ہو کہ اب ان کے در پر اگلے وقتوں کی مدارات نہیں ہوتی ہے غم تو گھنگھور گھٹاؤں کی طرح اٹھتے ہیں ضبط کا دشت ہے برسات نہیں ہوتی ہے یہ مرا تجربہ ہے حسن کوئی چال چلے بازیٔ عشق کبھی مات نہیں ہوتی ہے وصل ہے نام ہم آہنگی و یک رنگی کا وصل میں کوئی بری بات نہیں ہوتی ہے ہجر تنہائی ہے سورج ہے سوا نیزے پر دن ہی رہتا ہے یہاں رات نہیں ہوتی ہے ضبط گریہ کبھی کرتا ہوں تو فرماتے ہیں آج کیا بات ہے برسات نہیں ہوتی ہے مجھے اللہ کی قسم شعر میں تحسین بتاں میں جو کرتا ہوں میری ذات نہیں ہوتی ہے فکر تخلیق سخن مسند راحت پہ حفیظ باعث کشف و کرامات نہیں ہوتی ہے
کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا
کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا کوئی سنتا نہیں خدا کے سوا مجھ سے کیا ہو سکا وفا کے سوا مجھ کو ملتا بھی کیا سزا کے سوا برسر ساحل مراد یہاں کوئی ابھرا ہے ناخدا کے سوا کوئی بھی تو دکھاؤ منزل پر جس کو دیکھا ہو رہ نما کے سوا دل سبھی کچھ زبان پر لایا اک فقط عرض مدعا کے سوا کوئی راضی نہ رہ سکا مجھ سے میرے اللہ تری رضا کے سوا بت کدے سے چلے ہو کعبے کو کیا ملے گا تمہیں خدا کے سوا دوستوں کے یہ مخلصانہ تیر کچھ نہیں میری ہی خطا کے سوا مہر و مہ سے بلند ہو کر بھی نظر آیا نہ کچھ خلا کے سوا اے حفیظؔ آہ آہ پر آخر کیا کہیں دوست واہ وا کے سوا