حفیظ جالندھری

ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)

16 December 2025

19سپیکرز
101لسنرز

سپیکرز

یادرفتگان کا پیش کردہ کلام

اے دوست مٹ گیا ہوں فنا ہو گیا ہوں میں

اے دوست مٹ گیا ہوں فنا ہو گیا ہوں میں اس دور دوستی کی دوا ہو گیا ہوں میں قائم کیا ہے میں نے عدم کے وجود کو دنیا سمجھ رہی ہے فنا ہو گیا ہوں میں ہمت بلند تھی مگر افتاد دیکھنا چپ چاپ آج محو دعا ہو گیا ہوں میں یہ زندگی فریب مسلسل نہ ہو کہیں شاید اسیر دام بلا ہو گیا ہوں میں ہاں کیف بے خودی کی وہ ساعت بھی یاد ہے محسوس کر رہا تھا خدا ہو گیا ہوں میں

— حفیظ جالندھری