حفیظ جالندھری

ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)

16 December 2025

19سپیکرز
101لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

وہ قافلہ آرام طلب ہو بھی تو کیا ہو

وہ قافلہ آرام طلب ہو بھی تو کیا ہو آواز نفس ہی جسے آواز درا ہو خاموش ہو کیوں درد محبت کے گواہو دعوے کو نباہو مرے نالو مری آہو ہر روز جو سمجھانے چلے آتے ہو ناصح میں پوچھتا ہوں تم مجھے سمجھے ہوئے کیا ہو اس دار بقا میں مری صورت کوئی دیکھے اک دم کا بھروسا ہے جو اک دم میں فنا ہو مجھ کو نہ سنا خضر و سکندر کے فسانے میرے لیے یکساں ہے فنا ہو کہ بقا ہو

— حفیظ جالندھری

مضحکہ آؤ اڑائیں عشق بے بنیاد کا

مضحکہ آؤ اڑائیں عشق بے بنیاد کا اک جدا مدفن بنائیں تیشۂ فرہاد کا واہ واہ کیا رنگ بدلا گلشن ایجاد کا سایۂ گل پر گماں ہونے لگا صیاد کا بہہ چلا ہے اشک حسرت المدد اے برق یاس یہ بھی اک دانہ ہے میرے خرمن برباد کا کس نگاہ گرم سے دیکھا ہے اس نے وقت قتل آہ ٹھنڈی پڑ گئی دم گھٹ گیا فریاد کا غنچہ غنچہ خوف سے مجھ کو نظر آیا قفس پتے پتے پر ہوا دھوکا کف صیاد کا یہ سمجھ لیجے کسی شاعر کے دل کا ٹوٹنا ٹوٹ جانا ہے طلسم عالم ایجاد کا ہو نہ احساس اسیری تو رہائی ہے محال ایسے قیدی نام تک لیتے نہیں میعاد کا ضعف کی یہ ہمتیں ہیں ناتوانی کا یہ زور ٹکڑے ٹکڑے کر دیا دامن مری فریاد کا اس سخنور سے مجھے فیض سخن ہے اے حفیظؔ نام نامی ہے گرامی جس جہاں استاد کا

— حفیظ جالندھری