حفیظ جالندھری

ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)

16 December 2025

19سپیکرز
101لسنرز

سپیکرز

عباس نقوی کا پیش کردہ کلام

مدتوں تک جو پڑھایا کیا استاد مجھے

مدتوں تک جو پڑھایا کیا استاد مجھے عشق میں بھول گیا کچھ نہ رہا یاد مجھے کیا میں دیوانہ ہوں یارب کہ سر راہ گزر دور سے گھورنے لگتے ہیں پری زاد مجھے اب ہے آواز کی وہ شان نہ بازو کی اڑان اور صیاد کیے دیتا ہے آزاد مجھے داد خواہی کے لیے اور تو ساماں نہ ملا نالہ و آہ پہ رکھنی پڑی بنیاد مجھے میرے شعروں پہ وہ شرمائے تو احباب ہنسے اے حفیظؔ آج غزل کی یہ ملی داد مجھے

— حفیظ جالندھری