حفیظ جالندھری

ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)

16 December 2025

19سپیکرز
101لسنرز

سپیکرز

ریبل کا پیش کردہ کلام

دور رفتہ دیکھ لیتا ہوں گلستاں دیکھ کر

دور رفتہ دیکھ لیتا ہوں گلستاں دیکھ کر گل کو خنداں دیکھ کر بلبل کو گریاں دیکھ کر ناخدا پر مطمئن تھے بندگان ناخدا اب خدا یاد آ رہا ہے موج طوفاں دیکھ کر سنگ دل سمجھا برہمن شیخ سمجھے حد مذاق ہنس پڑے دونوں مجھے اب تک مسلماں دیکھ کر شکوہ فرماتے ہی الٹی منتیں کرنی پڑیں دل پشیماں ہو گیا ان کو پشیماں دیکھ کر اس مشقت گاہ میں راحت کا یہ گوشہ حفیظؔ دیکھ لو اور خوش رہو گور غریباں دیکھ کر

— حفیظ جالندھری