حفیظ جالندھری

ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)

16 December 2025

19سپیکرز
101لسنرز

سپیکرز

حسین بلوچ کا پیش کردہ کلام

مل جائے مے تو سجدۂ شکرانہ چاہیے

مل جائے مے تو سجدۂ شکرانہ چاہیے پیتے ہی ایک لغزش مستانہ چاہیے ہاں احترام کعبہ و بتخانہ چاہیے مذہب کی پوچھیے تو جداگانہ چاہیے رندان مے پرست سیہ مست ہی سہی اے شیخ گفتگو تو شریفانہ چاہیے دیوانگی ہے عقل نہیں ہے کہ خام ہو دیوانہ ہر لحاظ سے دیوانہ چاہیے اس زندگی کو چاہیے سامان زندگی کچھ بھی نہ ہو تو شیشہ و پیمانہ چاہیے او ننگ اعتبار دعا پر نہ رکھ مدار او بے وقوف ہمت مردانہ چاہیے رہنے دے جام جم مجھے انجام جم سنا کھل جائے جس سے آنکھ وہ افسانہ چاہیے

— حفیظ جالندھری