حفیظ جالندھری

ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)

16 December 2025

19سپیکرز
101لسنرز

سپیکرز

روح من کا پیش کردہ کلام

دوستی کا چلن رہا ہی نہیں

دوستی کا چلن رہا ہی نہیں اب زمانے کی وہ ہوا ہی نہیں سچ تو یہ ہے صنم کدے والو دل خدا نے تمہیں دیا ہی نہیں پلٹ آنے سے ہو گیا ثابت نامہ بر تو وہاں گیا ہی نہیں حال یہ ہے کہ ہم غریبوں کا حال تم نے کبھی سنا ہی نہیں کیا چلے زور دشت وحشت کا ہم نے دامن کبھی سیا ہی نہیں غیر بھی ایک دن مریں گے ضرور ان کے حصے میں کیا قضا ہی نہیں اس کی صورت کو دیکھتا ہوں میں میری سیرت وہ دیکھتا ہی نہیں عشق میرا ہے شہر میں مشہور اور تم نے ابھی سنا ہی نہیں قصۂ قیس سن کے فرمایا جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں واسطہ کس کا دیں حفیظؔ ان کو ان بتوں کا کوئی خدا ہی نہیں

— حفیظ جالندھری

سمٹ آئے ہیں گھر میں ویرانے

سمٹ آئے ہیں گھر میں ویرانے تو کدھر جا رہا ہے دیوانے دوستی اب گلے کا ہار نہیں تار ٹوٹا بکھر گئے دانے صبح دم اپنی اپنی راہ لگے شمع کے جاں نثار پروانے زندگی سے نپٹ رہا ہوں ابھی موت کیا ہے مری بلا جانے

— حفیظ جالندھری