سپیکرز
روح من کا پیش کردہ کلام
دوستی کا چلن رہا ہی نہیں
دوستی کا چلن رہا ہی نہیں اب زمانے کی وہ ہوا ہی نہیں سچ تو یہ ہے صنم کدے والو دل خدا نے تمہیں دیا ہی نہیں پلٹ آنے سے ہو گیا ثابت نامہ بر تو وہاں گیا ہی نہیں حال یہ ہے کہ ہم غریبوں کا حال تم نے کبھی سنا ہی نہیں کیا چلے زور دشت وحشت کا ہم نے دامن کبھی سیا ہی نہیں غیر بھی ایک دن مریں گے ضرور ان کے حصے میں کیا قضا ہی نہیں اس کی صورت کو دیکھتا ہوں میں میری سیرت وہ دیکھتا ہی نہیں عشق میرا ہے شہر میں مشہور اور تم نے ابھی سنا ہی نہیں قصۂ قیس سن کے فرمایا جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں واسطہ کس کا دیں حفیظؔ ان کو ان بتوں کا کوئی خدا ہی نہیں
سمٹ آئے ہیں گھر میں ویرانے
سمٹ آئے ہیں گھر میں ویرانے تو کدھر جا رہا ہے دیوانے دوستی اب گلے کا ہار نہیں تار ٹوٹا بکھر گئے دانے صبح دم اپنی اپنی راہ لگے شمع کے جاں نثار پروانے زندگی سے نپٹ رہا ہوں ابھی موت کیا ہے مری بلا جانے