حفیظ جالندھری

ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)

16 December 2025

19سپیکرز
101لسنرز

سپیکرز

صباگل کا پیش کردہ کلام

ہے ازل کی اس غلط بخشی پہ حیرانی مجھے

ہے ازل کی اس غلط بخشی پہ حیرانی مجھے عشق لافانی ملا ہے زندگی فانی مجھے میں وہ بستی ہوں کہ یاد رفتگاں کے بھیس میں دیکھنے آتی ہے اب میری ہی ویرانی مجھے تھی یہی تمہید میرے ماتمی انجام کی پھول ہنستے ہیں تو ہوتی ہے پشیمانی مجھے حسن بے پردہ ہوا جاتا ہے یا رب کیا کروں اب تو کرنی ہی پڑی دل کی نگہبانی مجھے باندھ کر روز ازل شیرازۂ مرگ و حیات سونپ دی گویا دو عالم کی پریشانی مجھے پوچھتا پھرتا تھا داناؤں سے الفت کے رموز یاد اب رہ رہ کے آتی ہے وہ نادانی مجھے

— حفیظ جالندھری