حفیظ جالندھری

ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)

16 December 2025

19سپیکرز
101لسنرز

سپیکرز

نور مائیر کا پیش کردہ کلام

دل کو ویرانہ کہو گے مجھے معلوم نہ تھا

دل کو ویرانہ کہو گے مجھے معلوم نہ تھا پھر بھی دل ہی میں رہوگے مجھے معلوم نہ تھا ساتھ دنیا کا میں چھوڑوں گا تمہاری خاطر اور تم ساتھ نہ دو گے مجھے معلوم نہ تھا چپ جو ہوں کوئی بری بات ہے میرے دل میں تم بھی یہ بات کہو گے مجھے معلوم نہ تھا لوگ روتے ہیں میری بد نظری کا رونا تم بھی اس رو میں بہو گے مجھے معلوم نہ تھا تم تو بے صبر تھے آغاز محبت میں حفیظؔ اس قدر جبر سہو گے مجھے معلوم نہ تھا

— حفیظ جالندھری