حفیظ جالندھری

ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)

16 December 2025

19سپیکرز
101لسنرز

سپیکرز

عون کبیر کا پیش کردہ کلام

آنے والے جانے والے ہر زمانے کے لیے

آنے والے جانے والے ہر زمانے کے لیے آدمی مزدور ہے راہیں بنانے کے لیے زندگی فردوس گم گشتہ کو پا سکتی نہیں موت ہی آتی ہے یہ منزل دکھانے کے لیے میری پیشانی پہ اک سجدہ تو ہے لکھا ہوا یہ نہیں معلوم ہے کس آستانے کے لیے ان کا وعدہ اور مجھے اس پر یقیں اے ہم نشیں اک بہانہ ہے تڑپنے تلملانے کے لیے جب سے پہرہ ضبط کا ہے آنسوؤں کی فصل پر ہو گئیں محتاج آنکھیں دانے دانے کے لیے آخری امید وقت نزع ان کی دید تھی موت کو بھی مل گیا فقرہ نہ آنے کے لیے اللہ اللہ دوست کو میری تباہی پر یہ ناز سوئے دشمن دیکھتا ہے داد پانے کے لیے نعمت غم میرا حصہ مجھ کو دے دے اے خدا جمع رکھ میری خوشی سارے زمانے کے لیے نسخۂ ہستی میں عبرت کے سوا کیا تھا حفیظؔ سرخیاں کچھ مل گئیں اپنے فسانے کے لیے

— حفیظ جالندھری