حفیظ جالندھری

ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)

16 December 2025

19سپیکرز
101لسنرز

سپیکرز

امل خان کا پیش کردہ کلام

آرزوئے وصلِ جاناں میں سحر ہونے لگی

آرزوئے وصلِ جاناں میں سحر ہونے لگی زندگی مانندِ شمعِ مُختصر ہونے لگی رازِ الفت کھُل نہ جائے، بات رہ جائے مِری بزمِ جاناں میں الہٰی چشم تر ہونے لگی اب شکیبِ دل کہاں، حسرت ہی حسرت رہ گئی زندگی اِک خواب کی صُورت بسر ہونے لگی یہ طِلِسمِ حُسن ہے، یا کہ مآلِ عشق ہے اپنی ناکامی ہی اپنی راہ بر ہونے لگی سُن رہا ہوں آرہے ہیں وہ سرِ بالین آج میری آہِ نارسا بھی، با اثرہونے لگی اُن سے وابستہ اُمیدیں جو بھی تھیں، وہ مِٹ گئیں اب طبیعت، آپ اپنی چارہ گر ہونے لگی وہ تبسّم تھا، کہ برقِ حُسن کا اعجاز تھا کائناتِ جان و دل زیر و زبر ہونے لگی دل کی دھڑکن بڑھ گئی آنکھوں میں آنسو آ گئے غالباً میری طرف اُن کی نظر ہونے گی جب چلا مُشتاق اپنا کارواں سُوئے عدم یاس ہم آغوش ہو کر ہم سفر ہونے لگی

— حفیظ جالندھری

عشق نے حسن کی بیداد پہ رونا چاہا

عشق نے حسن کی بیداد پہ رونا چاہا تخم احساس وفا سنگ میں بونا چاہا آنے والے کسی طوفان کا رونا رو کر نا خدا نے مجھے ساحل پہ ڈبونا چاہا سنگ دل کیوں نہ کہیں بت کدے والے مجھ کو میں نے پتھر کا پرستار نہ ہونا چاہا حضرت شیخ نہ سمجھے مرے دل کی قیمت لے کے تسبیح کے رشتے میں پرونا چاہا کوئی مذکور نہ تھا غیر کا لیکن تم نے باتوں باتوں میں یہ نشتر بھی چبھونا چاہا دیدۂ تر سے بھی سرزد ہوا اک جرم عظیم حشر میں نامۂ اعمال کو دھونا چاہا مرتے مرتے بھی توقع رہی دل داری کی رکھ کے سر زانوئے تقدیر پہ سونا چاہا ہائے کس درد سے کی ضبط کی تلقین مجھے ہنس پڑے دوست جو میں نے کبھی رونا چاہا جنس شہرت بہت ارزاں تھی مگر میں نے حفیظؔ دولت درد کو بے کار نہ کھونا چاہا

— حفیظ جالندھری