سپیکرز
ثنا سوئٹ کا پیش کردہ کلام
زندگی سے نباہ مشکل ہے
زندگی سے نباہ مشکل ہے یہ مسلسل گناہ مشکل ہے ہاں مرے خیر خواہ مشکل ہے تیرے ہاتھوں پناہ مشکل ہے دوستی ہی میں دشمنی بھی ہو یہ نئی رسم و راہ مشکل ہے ارتکابِ گناہ سہل نہیں انتخابِ گناہ مشکل ہے اے مری جان! اے مرے ایمان! اب ہمارا نباہ مشکل ہے ہم سے اس مسئلے پہ بات نہ کر فقر اے بادشاہ مشکل ہے چاہتا کیا ہے دل؟ یہ آگاہی گاہ آسان، گاہ مشکل ہے طور تو دور ہے خود اپنے حضور فرصتِ یک نگاہ مشکل ہے ابنِ آدم کو ابنِ آدم سے قبر میں بھی پناہ مشکل ہے مرتے رہنا مگر جیے جانا کس قدر بے پناہ مشکل ہے ان سے یاری حفیظؔ صاحب جی یوں بحالِ تباہ مشکل ہے
رنگ بدلا یار نے وہ پیار کی باتیں گئیں
رنگ بدلا یار نے وہ پیار کی باتیں گئیں وہ ملاقاتیں گئیں وہ چاندنی راتیں گئیں پی تو لیتا ہوں مگر پینے کی وہ باتیں گئیں وہ جوانی وہ سیہ مستی وہ برساتیں گئیں اللہ اللہ کہہ کے بس اک آہ کرنا رہ گیا وہ نمازیں وہ دعائیں وہ مناجاتیں گئیں حضرت دل اب نئی الفت سمجھ کر سوچ کر اگلی باتوں پر نہ بھولیں آپ وہ باتیں گئیں راہ و رسم دوستی قائم تو ہے لیکن حفیظؔ ابتدائے شوق کی لمبی ملاقاتیں گئیں