سپیکرز
ابو لقمان کا پیش کردہ کلام
اس بت کے پجاری ہیں مسلمان ہزاروں
اس بت کے پجاری ہیں مسلمان ہزاروں بگڑے ہیں اسی کفر میں ایمان ہزاروں دنیا ہے کہ ان کے رخ و گیسو پہ مٹی ہے حیران ہزاروں ہیں پریشان ہزاروں تنہائی میں بھی تیرے تصور کی بدولت دل بستگئ غم کے ہیں سامان ہزاروں اے شوق تری پستئ ہمت کا برا ہو مشکل ہوئے جو کام تھے آسان ہزاروں آنکھوں نے تجھے دیکھ لیا اب انہیں کیا غم حالانکہ ابھی دل کو ہیں ارمان ہزاروں چھانے ہیں ترے عشق میں آشفتہ سری نے دنیائے مصیبت کے بیابان ہزاروں اک بار تھا سر گردن حسرتؔ پہ رہیں گے قاتل تری شمشیر کے احسان ہزاروں
پیرو مسلک تسلیم و رضا ہوتے ہیں
پیرو مسلک تسلیم و رضا ہوتے ہیں ہم تیری راہ محبت میں فنا ہوتے ہیں شرم کر شرم کہ اے جذبۂ تاثیر وفا تیرے ہاتھوں وہ پشیمان جفا ہوتے ہیں چھیڑتی ہے مجھے بیباکئ خواہش کیا کیا جب کبھی ہاتھ وہ پابند حنا ہوتے ہیں نہ اثر آہ میں کچھ ہے نہ دعا میں تاثیر تیر ہم جتنے چلاتے ہیں خطا ہوتے ہیں اہل دل سنتے ہیں اک ساز محبت کی نوا ہم تری یاد میں جب نغمہ سرا ہوتے ہیں لذت درد نہ کیوں اہل ہوس پر ہو حرام کہ وہ کم بخت طلب گار دوا ہوتے ہیں کشور عشق میں دنیا سے نرالا ہے رواج کام جو بن نہ پڑیں یاں وہ روا ہوتے ہیں ہیچ ہم سمجھے دو عالم کو تو حیرت کیا ہے رتبے عشاق کے اس سے بھی سوا ہوتے ہیں جسم ہوتا ہے جدا جان سے گویا حسرتؔ آسماں ان سے چھڑاتا ہے جدا ہوتے ہیں