حسرت موہانی

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)

07 December 2025

20سپیکرز
246لسنرز

سپیکرز

افتخار احمد کا پیش کردہ کلام

درد دل کی انہیں خبر نہ ہوئی

درد دل کی انہیں خبر نہ ہوئی کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی کوششیں ہم نے کیں ہزار مگر عشق میں ایک معتبر نہ ہوئی کر چکے ہم کو بے گناہ شہید آپ کی آنکھ پھر بھی تر نہ ہوئی نارسا آہ عاشقاں وہ کہاں دور ان سے جو بے اثر نہ ہوئی آئی بجھنے کو اپنی شمع حیات شب غم کی مگر سحر نہ ہوئی شب تھے ہم گرم نالہ ہائے فراق صبح اک آہ سرد سر نہ ہوئی تم سے کیونکر وہ چھپ سکے حسرتؔ نگہ شوق پردہ در نہ ہوئی

— حسرت موہانی

خوب رویوں سے یاریاں نہ گئیں

خوب رویوں سے یاریاں نہ گئیں دل کی بے اختیاریاں نہ گئیں عقل صبرآشنا سے کچھ نہ ہوا شوق کی بے قراریاں نہ گئیں دن کی صحرا نوردیاں نہ چھٹیں شب کی اختر شماریاں نہ گئیں ہوش یاں سد راہ علم رہا عقل کی ہرزہکاریاں نہ گئیں تھے جو ہمرنگ ناز ان کے ستم دل کی امیدواریاں نہ گئیں حسن جب تک رہا نظارہ فروش صبر کی شرمساریاں نہ گئیں طرز مومنؔ میں مرحبا حسرتؔ تیری رنگیں نگاریاں نہ گئیں

— حسرت موہانی

چاہت مری چاہت ہی نہیں آپ کے نزدیک

چاہت مری چاہت ہی نہیں آپ کے نزدیک کچھ میری حقیقت ہی نہیں آپ کے نزدیک کچھ قدر تو کرتے مرے اظہار وفا کی شاید یہ محبت ہی نہیں آپ کے نزدیک یوں غیر سے بے باک اشارے سر محفل کیا یہ مری ذلت ہی نہیں آپ کے نزدیک عشاق پہ کچھ حد بھی مقرر ہے ستم کی یا اس کی نہایت ہی نہیں آپ کے نزدیک اگلی سی نہ راتیں ہیں نہ گھاتیں ہیں نہ باتیں کیا اب میں وہ حسرتؔ ہی نہیں آپ کے نزدیک

— حسرت موہانی