سپیکرز
افتخار احمد کا پیش کردہ کلام
درد دل کی انہیں خبر نہ ہوئی
درد دل کی انہیں خبر نہ ہوئی کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی کوششیں ہم نے کیں ہزار مگر عشق میں ایک معتبر نہ ہوئی کر چکے ہم کو بے گناہ شہید آپ کی آنکھ پھر بھی تر نہ ہوئی نارسا آہ عاشقاں وہ کہاں دور ان سے جو بے اثر نہ ہوئی آئی بجھنے کو اپنی شمع حیات شب غم کی مگر سحر نہ ہوئی شب تھے ہم گرم نالہ ہائے فراق صبح اک آہ سرد سر نہ ہوئی تم سے کیونکر وہ چھپ سکے حسرتؔ نگہ شوق پردہ در نہ ہوئی
خوب رویوں سے یاریاں نہ گئیں
خوب رویوں سے یاریاں نہ گئیں دل کی بے اختیاریاں نہ گئیں عقل صبرآشنا سے کچھ نہ ہوا شوق کی بے قراریاں نہ گئیں دن کی صحرا نوردیاں نہ چھٹیں شب کی اختر شماریاں نہ گئیں ہوش یاں سد راہ علم رہا عقل کی ہرزہکاریاں نہ گئیں تھے جو ہمرنگ ناز ان کے ستم دل کی امیدواریاں نہ گئیں حسن جب تک رہا نظارہ فروش صبر کی شرمساریاں نہ گئیں طرز مومنؔ میں مرحبا حسرتؔ تیری رنگیں نگاریاں نہ گئیں
چاہت مری چاہت ہی نہیں آپ کے نزدیک
چاہت مری چاہت ہی نہیں آپ کے نزدیک کچھ میری حقیقت ہی نہیں آپ کے نزدیک کچھ قدر تو کرتے مرے اظہار وفا کی شاید یہ محبت ہی نہیں آپ کے نزدیک یوں غیر سے بے باک اشارے سر محفل کیا یہ مری ذلت ہی نہیں آپ کے نزدیک عشاق پہ کچھ حد بھی مقرر ہے ستم کی یا اس کی نہایت ہی نہیں آپ کے نزدیک اگلی سی نہ راتیں ہیں نہ گھاتیں ہیں نہ باتیں کیا اب میں وہ حسرتؔ ہی نہیں آپ کے نزدیک